انوارالعلوم (جلد 11) — Page 137
۱۳۷ أَحْسَنُ عَمَلًا پس موت ضروری تھی کیونکہ موت کے بغیر انسانی اعمال کے نتائج پیدا نہیں ہوسکتے تھے۔اس لئے کہ زندگی میں ایک انسان جو اچھے عمل کرتا ہے اگر اسے ان کا بدلہ اسی دنیا میں مل جائے اور جو بدیاں کرتا ہے ان کی اسے یہاں ہی سزا دے دی جائے تو پھر کوئی نبیوں کا انکار کیوں کرے۔بلکہ فوری جزا سزا کو دیکھ کر سب مان لیں۔لیکن انعام مشقت اور محنت کے بعد ملا کرتا ہے۔اگر حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ اسی دنیا میں موجود ہوں اور خدا تعالیٰ نے مرنے کے بعد جو درجات انہیں دئیے ہیں وہ اسی دنیا میں مل گئے ہوں تو پھر ان کا کون منکر رہ سکتا ہے۔یا فرعون اور ابوجہل اگر کفر کی وجہ سے اسی دنیا میں آگ میں جل رہے ہوتے تو کون انکار کرتا۔اس طرح تو ایمان لانے والوں کو کوئی محنت اور کوشش ہی نہ کرنی پڑتی۔لیکن انعام محنت اور کوشش کے بعد ہی ملا کرتا ہے۔پس ضروری تھا کہ انعام دینے کے لئے ایک اور دنیا ہو اور وہ ان آنکھوں کے سامنے نہ ہو جس کی وجہ سے لوگ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔پس فرمایا خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ Page 83أَحْسَنُ عَمَلًا حیات کی غرض یہ ہے کہ انسان اس زندگی میں کام کرے اور موت کی غرض یہ ہے کہ اس زندگی میں جو کام کرے موت کے بعد ان کے انعام پائے۔وَھوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُورُاور خدا غالب اور بخشنے والا ہے وہ انعام بھی دے سکتا ہے اور کمزوریوں کو معاف بھی کرسکتا ہے۔اس آیت میں چونکہ پہلے موت کو رکھا ہے۔اس لحاظ سے عزیز کو پہلے رکھا۔اورحیاتمیں چونکہ کمزوریاں بھی سرزد ہوجاتی ہیں اس کے لئے غفورکی صفت کو رکھا کہ انسان سے غلطیاں ہوں گی جنہیں خدا معاف کردے گا۔پس یہ تکرار نہیں بلکہ بہت بڑی حکمت کے ماتحت اسے رکھا گیا ہے۔افضلیت کی تیسری وجہ (۳) افضلیت کی تیسری وجہ ایک الہامی کتاب کے لئے یہ ہے کہ وہ ان ضرورتوں کو پورا کرے جن کے لئے اسے اختیار کیا جاتا ہے۔مثلاً اگر ایک چیز پیاس بجھانے کے لئے پی جاتی ہے تو اس کا کام ہے کہ پیاس بجھائے۔لیکن چونکہ کتاب مذہب کے متعلق ایک معلم کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے ان ضرورتوں کے دو حصے ہوجائیں گے۔اول۔ان ضرورتوں کی تشریح کرے جن کو پورا کرنے کا وہ مدعی ہے۔کیونکہ ضرورت کا احساس بھی وہی کرتا ہے۔