انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 119

انوار العلوم جلد 1 دکھا دیں گے۔ 119 فضائل القرآن (۲) آٹھویں بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اپنی ذات میں کامل کتاب بیان فرمائی کہ قرآن کسی اور کتاب کا محتاج نہیں بلکہ اپنی ذات میں کامل ہے۔ اور تمام ضروری علوم اس میں موجود ہیں۔ یہ صرف جھوٹے مذاہب کا رد ہی نہیں کرتا بلکہ ہر ضروری چیز بھی پیش کرتا ہے۔ یہ دعوی بھی ایسا ہے جس کا لوگ تجربہ کر سکتے تھے کیونکہ بعض نئے اخلاق اور نئی قابلیتوں کا علم ہوا تھا۔ ان کے متعلق وہ پوچھ سکتے تھے کہ بتاؤ قرآن میں کہاں ہیں۔ مگر کوئی شخص مقابل میں نہ اٹھا۔ نویں بات آپ نے یہ پیش کی اعلیٰ درجہ کی روحانی ترقیات عطا کرنے والی کتاب کہ قرآن میں انسان کی اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی ترقیات کے گر موجود ہیں۔ اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھولے گئے ہیں۔ اور ہر قسم کی تدابیر بتائی گئی ہیں جن سے وہ ترقیات حاصل کر سکتا ہے۔ بعث بعد الموت کی حقیقت دسویں آپ نے بعث بعد الموت کی حقیقت ثابت کی۔ دوزخ کا کیا نقشہ ہو گا۔ کون لوگ اس میں جائیں گے۔ کیا کیا تکالیف ہونگی۔ اسی طرح یہ کہ جنت میں کون لوگ ہونگے۔ اس کی لذات کیسی ہونگی۔ جنت دائمی ہو گی یا نہیں۔ غرض ساری باتیں بیان کر دیں اس وقت میں ان انکشافات کی مثالیں پیش نہیں کر سکتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ بالخصوص اسلامی اصول کی فلاسفی " اور میری کتاب "احمدیت " میں ان کا ذکر ہے۔ یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ لاَ يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ میں مُطَهَّر کا لفظ مطہر کی تعریف استعمال ہوا ہے نہ کہ طاھر کا لفظ ۔ اس کی وجہ یہ کہ طاہر وہ شخص ہوتا ہے جو زہد و ورع سے ایک پاکیزگی حاصل کر لیتا ہے۔ اور مُطَهَّر وہ ہوتا ہے جو کسی اندرونی نسبت سے اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ اور مُطَهَّر کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے قول یا فعل سے ہی ہوتا ہے نہ کہ اس کے کسی عمل یا لوگوں کے کہنے سے۔ چنانچہ دیکھ لو۔ وہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کی صحیح تفاسیر لکھیں۔ وہ رہی لوگ تھے جو خدا تعالیٰ کے الہام اور اس کے قرب سے مشرف تھے اور خدا تعالٰی کی نصرت ان کے شامل حال تھی۔