انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 102

انوار العلوم جلد !! ١٠٢ فضائل القرآن (۲) کوئی نقصان اس سے پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے تو اسے ہم استعمال کر لیتے ہیں اور زیادہ نفع دینے والی جس کے استعمال سے نقصان کا بھی خطرہ ہو اسے استعمال نہیں کرتے۔ اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کی فضیلت کا ثبوت ملتا ہے۔ بیسویں۔ کسی چیز کو فضیلت اس وجہ سے بھی دی دعوت عام کے لحاظ سے فضلیت جاتی ہے کہ وہ اپنی چیز ہوتی ہے۔ جب میں نے قرآن کریم کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ صرف قرآن ہی اپنا تھا۔ باقی سب کتب میں مجھے غیریت نظر آئی۔ قرآن کریم کو میں نے ایک ہندو کی نظر سے بھی دیکھا اور ایک عیسائی کی نظر سے بھی۔ ایک پارسی کی نظر سے بھی اور ایک بُدھ کی نظر سے بھی۔ پھر کبھی میں سید بن کر اس کے پاس گیا کبھی مغل بن کر کبھی شیخ بن کر کبھی راجپوت بن کر، کبھی عالم کے رنگ میں اور کبھی جاہل کے رنگ میں۔ مگر ہر دفعہ اس نے یہی کہا کہ آؤ تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں۔ لیکن دوسری کتب کے پاس جس حالت میں بھی میں گیا۔ انہوں نے مجھے دھتکارا اور اپنے پاس تک پھٹکنے نہ دیا۔ اکیسویں۔ کسی چیز کو اس لحاظ سے بھی ہم علاج الامراض کے لحاظ سے فضیلت فضیلت دیا کرتے ہیں کہ وہ ان بیماریوں کا علا کا علاج ہو جو ہم میں پائی جاتی ہیں۔ میں نے جب دیکھا تو قرآن کریم میں مجھے یہ بھی فضیلت نظر آئی۔ بائیسویں۔ ایک چیز کو دوسری پر ہم اس لئے بھی زائد فوائد کے لحاظ سے فضیلت مقدم کیا کرتے ہیں کہ اس سے ہمیں زائد فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اس لحاظ سے بھی قرآن کریم دوسری کتب سے افضل ہے۔ تئیسویں۔ مذہب کی افضلیت کی ایک مطمح نظر کی وسعت کے لحاظ سے فضیلت علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اعلیٰ ترقیات کی امید پیدا کر کے انسان کا مطمح نظر وسیع کرے۔ اپنے پیروؤں کی ہمت بڑھائے۔ ان میں مایوسی اور نا امیدی نہ آنے دے اور ان کی اُمنگوں کو قائم رکھے۔ میں نے دیکھا کہ اسلام اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات اور تعلق باللہ کا دروازہ ہمارے لئے کھولتا ہے اور اس طرح ہماری امید کو نہ صرف قائم رکھتا ہے بلکہ اسے وسیع کر کے ہماری ہمت کو بڑھاتا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ انسانی ترقی اس کے مستقبل کے خواب میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔ پس اس لحاظ سے بھی