انوارالعلوم (جلد 11) — Page 100
۱۰۰ کھوٹ سے مبرا ہونے کے لحاظ سے فضیلت دسویں۔اس لحاظ سے بھی کسی چیز کی فضیلت کو دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کوئی کھوٹ تو نہیں ملا ہوا۔جس چیز میں کھوٹ نہ ہو اسے دوسری چیزوں پر فضیلت دی جاتی ہے۔اس میں بھی قرآن کریم تمام کتبِ الٰہیہ سے افضل پایا گیا۔یقینی فوائد کے لحاظ سے فضیلت گیارھویں۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کھوٹ سے تو پاک ہوتی ہیں مگر ان کے نفع کے متعلق اطمینان نہیں ہوتا۔یہ احتمال ہوتا ہے کہ ان کے استعمال میں کوئی غلطی نہ ہوجائے جس کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑے۔لیکن جس کے استعمال کے متعلق غلطی کا کوئی احتمال نہ ہو اور اس کے فوائد کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو اسے اختیا ر کر لیا جاتا اور اس کی فضیلت تسلیم کر لی جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کو فضیلت حاصل ہے۔ظاہری حسن کے لحاظ سے فضیلت بارھویں۔ظاہری حسن کی وجہ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دے دی جاتی ہے۔قرآن کریم اپنے ظاہری حسن کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایاگیا۔ضروری امور کو نقصان نہ پہنچانے کے لحاظ سے فضیلت تیرھویں۔ایک چیز کو دوسری پر اس لئے بھی فضیلت دے د ی جاتی ہے کہ اس کا استعمال دوسری ضروری اشیاء کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔مثلاً ایک شخص دو بیماریوں میں مبتلا ہو۔اس کی ایک بیماری کے لئے ایک ایسی دوا ہو جو بہت فائدہ دیتی ہو لیکن دوسری بیماری کو بڑ ھا دیتی ہو۔تو اس کی نسبت وہ دوائی استعمال کی جائے گی جو نفع کم دیتی ہو لیکن دوسری بیماری کو نقصان نہ پہنچاتی ہو۔اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔فوائد کے سہل الحصول ہونے کے لحاظ سے فضیلت چودھویں۔اس لئے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دی جاتی ہے کہ اس کے فوائد سہل الحصول ہوتے ہیں۔یعنی آسانی سے اس کے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔