انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 95

انوار العلوم جلد اا ۹۵ فضائل القرآن (۲) جن کو الہامی درجہ دیا دیا جاتا جاتا ہے ہے یا یا وہ وہ کتابیں جن کا پتہ آثار قدیمہ سے لگا ہے ان سب سے افضل او ہے۔ اس وجہ سے ہمارے لئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ پہلی تمام کتابوں پر مقدم اور ان سے افضل ہے۔ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو تورات میں نہیں۔ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو پرانے صحیفوں میں نہیں۔ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو اناجیل میں نہیں۔ قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو ویدوں میں نہیں۔ اور قرآن کریم میں ایسی خوبیاں ہیں جو زرتشت وغیرہ کی کتابوں میں بھی نہیں۔ پھر قرآن کریم کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم ایک روحانی خزانہ ہے ہمیں یہ بھی ثابت کرنا ہو گا کہ قرآن کریم میں وہ روحانی خزانہ ہے جس کے بغیر دنیا میں ہم گزارہ نہیں کر سکتے ۔ صرف دوسری الہامی کتب کے مقابلہ میں زیادتی ثابت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم نے جو چیز پیش کی ہے اس سے ایسی نئی سہولتیں بہم پہنچی ہیں جو پہلے حاصل نہ تھیں۔ جب دو چیزیں صفات کے لحاظ سے برابر ہوں تو ایک کی ظاہری خوبی بھی دوسری پر فضیلت تسلیم کی جا سکتی ہے۔ جیسے دو آم ایک ہی طرح میٹھے ہوں مگر ان میں سے ایک بڑا اور دوسرا چھوٹا ہو تو بڑے کو چھوٹے پر بڑائی کی فضیلت حاصل ہوگی۔ لیکن قرآن کریم کے متعلق ہمارا یہ دعوی ہے کہ یہ ساری دنیا کیلئے اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔ اب اس کے بعد کوئی شرعی کتاب نہیں آ سکتی۔ اس لئے ہمیں ساری قوموں، سارے مذاہب اور سارے علوم کے مقابلہ میں قرآن کریم کی فضیلت ثابت کرنی ہوگی۔ جو کتاب یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ سب سے آخری الہامی کتاب ہے ، جیسے قرآن کہتا ہے ، اس کی ذمہ داری پہلی تمام کتب سے بالا خوبیاں پیش کرنے کی ہے۔ پہلی کتابوں کو منسوخ کرنے کا دعوی کرنے والی کتاب کا فرض صرف یہ ہے کہ وہ اتنا ثابت کر دے کہ پہلی کتابوں سے زیادہ اس میں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن وہ کتاب جو یہ کہے کہ میرے بعد کوئی شرعی کتاب نہیں آسکتی اور میں اب ہمیشہ کے لئے مکمل کتاب ہوں اس کے لئے یہی کافی نہیں کہ وہ پہلی کتابوں سے بڑھ کر خوبیاں پیش کرے بلکہ یہ ثابت کرنا بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ آئندہ روحانیت کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں آسکتی جو اس میں نہ ہو ۔ پس وہ کتاب جو صرف یہ نہ کہے کہ میں پہلی کتب کو منسوخ کرتی ہوں بلکہ یہ بھی کہے کہ