انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 94

انوار العلوم جلدا ۹۴ فضائل القرآن (۲) مغز اور اس کی جان ہے۔ اور دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اسے پورے غور اور توجہ کے ساتھ سنیں اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ یہ مضمون فضائل قرآن کریم کے متعلق ہے۔ یعنی قرآن کریم میں وہ کونسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے دوسرے مذاہب کی کتابوں پر اسے فضیلت دی جا سکتی ہے۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن کریم پر ہمارے مذہب کا دار ومدار ہے۔ اگر خدانخواستہ قرآن کریم میں ہی کوئی نقص ثابت ہو جائے یا اس میں غیر معمولی خوبیاں ثابت نہ ہوں تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پس یہ ایک نہایت ہی نازک مسئلہ ہے جس پر حملہ کرنے سے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میں رسول کریم ملی سلیم کو قرآن کریم سے باہر نہیں سمجھتا۔ آپ بھی قرآن کا جزء ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِينَ - نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ - عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ - له یعنی یہ قرآن يقينا رب العالمین خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔ یہ قرآن روح الامین لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تاکہ تو انذار کرنے والوں کی مقدس جماعت میں شامل ہو جائے۔ پس ایک قرآن لفظوں میں نازل ہوا ہے اور ایک قرآن رسول کریم ملی ایم کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے۔ اس وجہ سے رسول کریم میں تعلیم پر کوئی حملہ در حقیقت قرآن کریم پر ہی حملہ ہو گا۔ تمام ادیان اور کتب الهامیہ پر قرآن کریم کی فضیلت ہمارا یہ دعوی ہے کہ قرآن کریم ساری دنیا کے لئے اور سارے زمانوں کیلئے ہے۔ اب اگر قرآن کریم ساری دنیا اور سارے زمانوں کیلئے ہے تو ہماری اس کے متعلق ذمہ داری بھی بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ نسبت اس کے کہ قرآن کریم صرف عرب کیلئے ہوتا اور صرف ایک زمانہ کے مفاسد دور کرنے کے لئے آتا۔ عربوں کے پاس کوئی شریعت نہ تھی کوئی مذہبی کتاب نہ تھی۔ وہ خیالی باتوں پر یا قومی رسم و رواج پر عمل کرتے تھے۔ ان کے متعلق ہمارے لئے صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ عرب چونکہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا تھے قرآن کریم نے انہیں ان برائیوں سے روک دیا اس وجہ سے اس کی ضرورت تھی۔ پس اگر عرب ہی کے لئے قرآن ہو تا تو قرآن کی فضیلت اور برتری ثابت کرنے میں کوئی دقت نہ تھی۔ مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ساری دنیا کیلئے آیا ہے اور یہودی ، مسیحی ، ہندو ، پارسی وغیرہ سب اس کے مخاطب ہیں اور تمام دوسری کتابیں