انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 82

۸۲ انوار العلوم جلدا چند اہم اور ضروری امور ایسی نظیر سوائے مخلصین کے اور کوئی نہیں پیش کر سکتا۔ بعض لوگوں کو ایک غلطی لگی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ نئے سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں۔ یا جو سست ہیں انہیں چندہ کی تحریک نہ کرنی چاہئے۔ اس سے انہیں ابتلاء آئے گا حالانکہ ایسے لوگوں کو مضبوط کرنے کے لئے قربانی کرانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ اپنے بھائیوں پر بدظنی ہے کہ اس طرح انہیں ابتلاء آجائے گا۔ میں نے کئی لوگوں کو جب یہ غلطی دور کرنے کے لئے لکھا اور انہوں نے کوشش کی تو عمدہ ان سے نتیجہ نکلا۔ اور پھر انہوں نے لکھا کہ آپ کی تحریک کی برکت سے ایسا ہوا۔ بے شک خدا تعالی برکت دیتا ہے مگر اس میں ان کی کوشش کا بھی دخل ہوتا ہے۔ بعض لوگوں سے جب چندہ مانگا گیا تو انہوں نے سال سال کا اکٹھالا دیا۔ تو یہ اپنے بھائیوں کے بھائیوں کے متعلق بدظنی ہے کہ اگر ان ۔ چندہ مانگا گیا تو انہیں ابتلاء آجائے گا۔ پس میں جماعتوں کے کارکنوں کو توجہ دلاتا ہوں اور اگر وہ مست ہوں تو دوسروں سے کہتا ہوں کہ چندہ کی ادائیگی میں ہر شخص سے باقاعدگی اختیار کرائیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ کامیابی خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ مگر جو ضرورتیں مال سے پوری ہو سکتی ہیں ان کے لئے مال کی ضرورت ہے اور ا رت ہے اور اس کے بغیر کام نہیں ہو سکتا۔ بعض جگہ کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری خودمست ہوتے ہیں۔ جب کوئی تحریک کی جائے تو اسے اس اس لئے روک دیتے ہیں کہ اگر کسی کو چندہ دینے۔ کے لئے کہا تو وہ کہے گا خود بھی لاؤ ایسی جگہ دوسرے دوستوں کو کھڑا ہو جانا چاہئے۔ ابھی میں نے حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی مثال پیش کی تھی کہ ہر شخص اپنے آپ کو دین کا رکھوالا سمجھے ۔ اگر دیکھیں سیکرٹری یا پریذیڈنٹ پریذیڈنٹ مست ہے تو خود کام کریں۔ کئی جماعتیں ایسی ہیں جہاں اس وجہ سے نقص ہے۔ اگر ان مست سیکرٹری یا پریذیڈنٹ کو بدل دیا جائے تو باقاعدہ چندہ آنے لگ جائے۔ پھر کئی جگہ چندہ میں کمی آپس کے فتنہ و فساد کی وجہ وجہ سے ہے کیونکہ دلوں کی عدم صفائی سے ایمان میں کمزوری آجاتی ہے۔ اول تو میں نصیحت کروں گا کہ ایسی جگہ بیٹھ کر جہاں چاروں طرف دشمن ہی دشمن کھڑے ہوں آپس میں فتنہ و فساد نہ کرو بلکہ اگر کسی سے کوئی غلطی یا کمزوری سرزد ہو تو اسے معاف کرد ، معاف کرو پھر معاف کرو۔ لیکن اگر معاف نہیں کر سکتے اور سزا ہی دینا چاہتے ہو تو محبت والی سزا دو۔ کوئی کے محبت والی سزا کیسی ہو گی ۔ تو یاد رکھنا چاہئے ۔ اصل سزا یہی ہے کہ سزا دیتے وقت بھی محبت ہو ، کینہ اور بغض نہ ہو۔ پس اول تو معاف کرو ایک دوسرے کی کمزوری سے در گزر کرو اور اگر معاف نہیں کر سکتے تو محبت اور پیار سے جماعت میں فیصلہ کرالو اور پھر جو فیصلہ ہو اسے مان