انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 77

۷۷ بچوں کے مضامین کا فیصلہ کیا گیا ہے نہ کہ حق نمائندگی کا- اگرچہ یہ معمولی سوال نہیں ہے- اس میں غلطی بہت خطرناک ہو سکتی ہے- تا ہم ایسا اہم بھی نہیں ہے کہ اگر عورتوں کو حق نمائندگی دے دیا جائے تو اسلام کو مردہ قرار دینا پڑے- بے شک یہ سوال بہت اہم ہے مگر اس کا شریعت سے تعلق نہیں- شریعت سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے مرد سے بھی مشورہ لیا اور عورت سے بھی- باقی رہا یہ کہ کس طریق سے مشورہ لینا چاہئے یہ نہ مردوں کے متعلق بتایا نہ عورتوں کے متعلق- یہ بات عورتوں کو حق نمائندگی نہ ملنے کا کوئی بڑے سے بڑا ممد بھی ثابت نہیں کر سکتا- شریعت نے کہا ہے مشورہ کرو- آگے یہ کس طریق سے کیا جائے یہ ہم پر چھوڑ دیا کہ زمانہ کے حالات کے مطابق جس طرح مناسب ہو کرو- اگر رسول کریم ﷺ کے وقت اس طرح مشورہ کیا جاتا کہ شام، یمن، حلب وغیرہ علاقوں کے نمائندے آتے اور مشورہ میں شریک ہوتے تو ہو سکتا تھا مدینہ میں مشورہ ہی ہو رہا ہوتا اور پیچھے حملہ ہو جاتا- اس لئے رسول کریم ﷺ کا یہ طریق تھا کہ نماز کے لئے لوگوں کو جمع کرتے اور پھر مشورہ کر لیتے- بعد میں اس طریق کو بدلنا پڑا- پس طریق مشورہ بدلا جا سکتا ہے- کیونکہ یہ شریعت میں موجود نہیں- یہ ہم نے حالات کے مطابق خود مقرر کرنا ہے- اس میں اگر غلطی کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے- مگر شریعت دفن نہ ہوگی، وہ زندہ ہی رہے گی- یہ بات ہماری جماعت کے لوگوں کو اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ آج وہ زمانہ نہیں کہ کھڑے ہو کر کہہ دیا جائے عورتیں ناقصات العقل والدین ہیں اور اس کے یہ معنی کر لئے جائیں کہ عورتوں میں کوئی عقل نہیں- یہ معنی خود رسول کریم ﷺ کے عمل اور آپ سے بعد کے عمل سے غلط ثابت ہوتے ہیں- اگر اس کے یہی معنی ہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں تو رسول کریم ﷺ نے ام سلمہؓ سے کیوں مشورہ لیا؟ اگر عورتیں ناقصات العقل ہوتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایسی عورتیں بھی ہوئی ہیں جنہوں نے کامل العقل مردوں کو عقل کے بارے میں شکست دی اور ان کے پایہ کے مرد نہیں ملتے- میں حضرت عائشہ ؓ کو پیش کرتا ہوں- قرآن کریم میں خاتم النبین کے الفاظ آئے تھے ادھر حدیثوں میں لا نبی بعدی ۲؎ کے الفاظ موجود تھے- جوں جوں زمانہ نبوت سے بعد ہوتا جاتا، ان سے یہ نتیجہ نکالا جاتا کہ رسولِ کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا- اس خطرہ کے انسداد کیلئے کسی مرد کو توفیق نہ ملی