انوارالعلوم (جلد 11) — Page 76
۷۶ کاروباری ضرورتیں بڑھ رہی ہیں اور ان کا پورا کرنا ضروری ہے اس لئے میں چند دوستوں کے سپرد یہ کام کرنے والا ہوں کہ وہ ایسی سکیم بنائیں جس کی رو سے لوگ روپیہ جمع کر سکیں اور ضرورت کے وقت انہیں روپیہ مل سکے- اگر کوئی ایسی صورت نکل آئے اور کیوں نہ نکلے گی یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ مومنین کی ضروریات پورا کرنے کے لئے کوئی جائز صورت ہی نہ رہے- اگر قانون دان اصحاب توجہ کریں تو ایسی کمپنی بنائی جا سکتی ہے جس میں روپیہ جمع کرانا ناجائز نہ ہو اور ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے- اس کے متعلق میں نے بھی ایک سکیم بنائی ہے- میں اس کے متعلق قانون دان اصحاب کی رائے سن کر دیکھوں گا کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں- چونکہ یہ ضرورت بہت محسوس کی جا رہی ہے اس لئے اس کا ضرور انتظام ہونا چاہئے- ہاں ایک طرح کا بیمہ جائز ہے اور وہ یہ کہ مجبوراً کرانا پڑے جیسے بعض محکموں میں گورنمنٹ نے ضروری کر دیا ہے کہ ملازم بیمہ کرائیں- یہ چونکہ اپنے اختیار کی بات نہیں ہوتی اس لئے جائز ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ موجود ہے- آپ نے فرمایا ہے پراویڈنٹ فنڈ جہاں مجبور کر کے جمع کرایا جاتا ہے وہاں اس رقم پر جو زائد ملے وہ لے لینا چاہئے- اس کے بعد حضور نے مجلس مشاورت میں عورتوں کے حق نمائندگی کے متعلق فرمایا-: ایک اور مسئلہ جس نے ہماری جماعت میں بہت شور برپا کر دیا ہے وہ مجلس مشاورت میں عورتوں کے حقوق کا مسئلہ ہے- میں نے مجلس مشاورت میں سوال پیش کیا تھا کہ عورتوں کو حقنمائندگی ملنا چاہئے یا نہیں میرے نزدیک کسی مسئلہ کے متعلق اتنا جوش، جوش نہیں بلکہ دیوانگی پیدا نہیں ہوئی جتنی اس بارے میں پیدا ہوئی ہے- عورتیں ہیں تو کمزور مگر معلوم ہوتا ہے ان میں مردوں کو بہادر بنانے کا خاص ملکہ ہے- بعض دوستوں میں اتنا جوش پایا جاتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اگر عورتوں کو حق نمائندگی مل گیا تو اسلام مردہ ہو جائے گا- اس کے مقابلہ میں دوسرے فریق میں جوش نہیں دیکھا گیا لیکن عورتوں میں جوش ہے- الفضل میں ایک مضمون ان کے حقِّ نمائندگی کے خلاف جب چھپا تو لجنہ کی طرف سے میرے پاس شکایت آئی کہ اب ہم کیا کریں- جامعہ احمدیہ میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی اور وہاں حق نمائندگی کے مخالفین کو کامیاب قرار دیا گیا ہے- میں نے کہا تم بھی میٹنگ کرو جس میں اس مسئلہ پر بحث کرو کہ مردوں کا مجلس مشاورت میں حق ِّ نمائندگی ہے یا نہیں اور پھر فیصلہ کر دو کہ نہیں- جامعہ احمدیہ میں تو