انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 73

۷۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسؤله الكريم چند اہم اور ضروری امور (فرمودہ ۲۸- دسمبر ۱۹۲۹ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان) حضور نے اول تو احباب کو ان ایام میں زیادہ عرصہ قادیان میں ٹھہرنے کی نصیحت فرمائی- پھر اس سال اپنے طویل عرصہ علیل رہنے کا ذکر کرتے ہوئے اس کام کا ذکر کیا جو قرآن کریم کے اردو نوٹوں کے مرتب کرنے اور ترجمہ انگریزی کے متعلق ہوا- اسی سلسلہ میں حضور نے حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے کی تصنیف کردہ سیرت رسول کریم ﷺ کا ذکر کیا اور اس کے جلد شائع ہونے کی توقع دلائی- ان امور کے بعد حضور نے نہایت درد ناک الفاظ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی وفات کا ذکر کیا اور ان کی خوبیاں بیان فرمائیں حضور نے فرمایا- میں سمجھتا ہوں میں ایک نہایت وفادار دوست کی نیک یاد کے ساتھ بے انصافی کروں گا اگر اس موقع پر حافظ روشن علی صاحب کی وفات پر اظہار رنج و افسوس نہ کروں- حافظ صاحب مرحوم نہایت ہی مخلص اور بے نفس انسان تھے- میں نے ان کے اندر وہ روح دیکھی جسے اپنی جماعت میں پیدا کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خواہش تھی ان میں تبلیغ کے متعلق ایسا جوش تھا کہ وہ کچھ کہلوانے کے محتاج نہ تھے- بہت لوگ مخلص ہوتے ہیں، کام بھی اچھا کرتے ہیں مگر اس امر کے محتاج ہوتے ہیں کہ دوسرے انہیں کہیں- یہ کام کرو تو وہ کریں- حافظ صاحب مرحوم کو میں نے دیکھا وہ سمجھتے تھے گو خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے مگر ہر مومن کا فرض ہے کہ ہر کام کی نگہداشت کرے اور اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے- وہ اپنے آپ کو سلسلہ کا ایسا ہی ذمہ وار سمجھتے تھے جیسا اگر کوئی مسلمان بالکل اکیلا رہ جائے اور