انوارالعلوم (جلد 11) — Page x
انوار العلوم جلد !! ۲۰ ستمبر ۱۹۲۹ء میں شائع ہوا۔ ۲ تعارف کتب شروع میں حضور نے قادیان کے مختصر تاریخی حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قصبہ میرے آباؤ اجداد کا آباد کردہ ہے۔ یہاں کی ساری زرعی زمین کے مالک ہم ہیں۔ غیر مسلم بطور مزارع یا غیر مالکان یہاں آباد ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے بھی ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اس کے باوجود ہم ہمیشہ ان کے مذہبی جذبات کا خیال رکھتے آئے ہیں۔ مسلمان آبادی کی ضرورت اور خواہش کے باوجود لمبا عرصہ میں نے صرف غیر مسلم لوگوں کے احساسات کا خیال کرتے ہوئے مذبح کی اجازت نہ دی۔ لیکن اب جب کہ اقتصادی حالات کے لحاظ سے ضرورت شدت اختیار کر گئی تو میں نے مریج کے لئے درخواست کی اجازت دے دی۔ چنانچہ سب قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کمیٹی نے مذبح خانہ بنوایا جسے انتہائی ظالمانہ طریق پر مسمار کر دیا گیا اور اس طرح ہمارے جذبات اور وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ حضور نے غیر مسلم لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔ ان حالات کو آپ کے سامنے پیش کر کے میں آپ سے چاہتا ہوں کہ آپ کے نزدیک اگر کوئی ایسی راہ ہے کہ مسلمان اپنی ضروری غذا کو بھی حاصل کر سکیں اور ان کی مذہبی اور اخلاقی حالت بھی درست رہے اور ان کے ہمسایوں کے جذبات بھی ناواجب طور پر زخمی نہ ہوں تو آپ مجھے اس سے مطلع کریں میں ہر معقول تجویز پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوں" حضور نے اس مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی ضرورت اور قانون کے لحاظ سے مذبح خانہ بنانا ہمارا حق ہے۔ ہم اسے آج نہیں تو کل لے کے رہیں گے سوال صرف یہ ہے کہ جو فتنہ برپا کیا جا رہا ہے اس کا اثر ہندوستان کی تین قوموں پر کیا پڑے گا۔ اس کے ازالہ کی صورت ہونی چاہئے تاکہ سب لوگ یہاں امن و امان اور محبت و پیار سے رہ سکیں۔ (۲) ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہئے کشمیر میں کچھ عرصہ قیام کے بعد سرینگر سے واپس آتے ہوئے حضور ایک دن کے لئے جموں میں ٹھہرے۔ احباب جماعت نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۳۰ ستمبر ۱۹۲۹ء کو