انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 614

۶۱۴ فضائل القرآن(نمبر ۳) غفاری ؓ، ابو ہریرہ ؓ، اور چار پانچ صحابہؓ سے مروی ہے اور اکثر کتبِ حدیث میں ہے۔اَعْظَمُ اٰیَۃ سے مراداور حقیقت یہی ہے کہ یہ آیت منبع ہے قرآن کا ورنہ سب آیات ہی اعظم ہیں اور منبع اسی آیت کو کہہ سکتے ہیں جو بطور امّ کے ہو۔یعنی اس میں وہ بات ہے جو قرآن کریم کو دوسری کتب سے بطور اصول کے ممتاز کرتی ہے۔چنانچہ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت الکرسی میرے سوا کسی اور نبی کو نہیں ملی۷۹؂۔یوں تو قرآن کریم کی کوئی آیت بھی کسی اور نبی کو نہیں دی گئی مگر آیت الکرسی کے نہ دیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اندر جو صفات ہیں ان کے ماتحت کسی اور نبی پر کلام نازل نہیں ہوا اور وہ صفات حیّی و قیّوم کی ہی ہیں۔چنانچہ سورۃ آل عمران میں خدا تعالیٰ کی ان ہر دو صفات کو بیان کر کے قرآن کے نازل ہو نے کا ذکر ہے۔حیّی کے معنی ہو تے ہیں زندہ اور زندہ رکھنے والا۔اور قیّوم کے معنے ہیں قائم اور قائم رکھنے والا۔پس فرمایا یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اتری ہے جو زندہ اور زندہ رکھنے والا ہے۔یعنی یہ کلام ہمیشہ زندہ اور زندگی بخش رہے گا۔اور پھر یہ کتاب اس خدا کی طرف سے اتری ہے جو قائم اور قائم رکھنے والا ہے۔پس اس کتاب کو بھی وہ ہمیشہ قائم رکھے گا۔آیت الکرسی کے متعلق رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی صبح کو آیت الکرسی پڑھے تو شام تک اور شام کو پڑھے تو صبح تک شیطان سے اس کی حفاظت کی جاتی ہے ۸۰؂۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن ان کی صفات کے ساتھ خاص تعلق رکھتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ صرف یہی کلام ہے جس کے متعلق فرمایالَا یَمَسُّہٗ إِلَّا الْمُطَھرُوْنَ پس وہی کلام جس کے زندہ رکھنے اور محفوظ رکھنے کا وعدہ تھا اور جس سے پہلے کسی کلام کے متعلق یہ وعدہ نہ تھا۔حالانکہ وہ آسمانی کلام تھے اور جس سے پہلے کلاموں کو لوگ چھوتے تھے اور جس کے چھونے سے لوگوں کو روکا گیا تھا صاف ظاہر ہے کہ ا سی کلام کی طرف اِنَّا لَمَسْنَا والی آیت میں اشارہ ہے۔نیز یہ بھی دیکھنا چا ہئے کہ اگر ٔحفاظت سے مراد قرآن کریم کی حفاظت نہ تھی تو کفار کے سوال میں شُھُب کے نزول کے ذکر کے کیا معنی ہیں ؟ کفار تو قرآن کے متعلق سوال کرتے تھے پھر یہ کیا جواب ہوا کہ آسمان پر شیطان نہیں جا سکتا اور اگر جاتا ہے اس پر شہاب گرتا ہے۔