انوارالعلوم (جلد 11) — Page 589
۵۸۹ فضائل القرآن(نمبر ۳) (۲) حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ کہہ کر احسان جتانے کی روح کو بھی کچل دیا اور بتایا کہ جن کو صدقہ دیا جاتا ہے ان کا بھی دینے والے کے مال میں حق ہے۔(۳) لیکن چونکہ ہر ایک اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے ظاہری احکام بھی دے دئیے۔چنانچہ فرمایا۔یَآ أَیُّھا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لٓاَ تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاٰذٰی ۴۳ اے مومنو! صدقات کو احسان جتا کر یا دوسروں سے خدمت لے کر ضائع نہ کرو۔(۴) پھر ایک اور پہلو اختیار کیا جس سے احسان کا کچھ بھی باقی نہ رکھا۔فرمایا یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ۴۴ اﷲ تعالیٰ سود کو مٹائے گا اور صدقات دینے والوں کے مال کوبڑھائے گا۔اس میں بتایا کہ صدقہ دینے والوں کو ہم خود بدلہ دیں گے۔صدقات پر زور لیکن سوال کی ممانعت چودھویں بات یہ بیان کی کہ جہاں صدقات دینے پر اسلام نے زور دیا وہاں چونکہ یہ خیال ہوسکتا تھا کہ مانگنا اچھی بات ہے اس لئے اس کی بھی تشریح کر دی۔چنانچہ مومن کی شان بتائی کہ یَحْسَبُھمُ الْجَاھلُ أَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُھمْ بِسِیْمَاھمْ لاَ یَسْأَلُوْنَ النَّاسَ إِلْحَافًا۴۵ یعنی جو شخص اس تعلیم سے واقف نہیں کہ اسلام سوال کو پسند نہیں کرتا وہ ایسے لوگوں کو سوال سے بچنے کی وجہ سے غنی خیال کرتا ہے۔لیکن جو اس سے واقف ہے۔وہ لوگوں کی شکلوں سے تاڑ لیتا ہے اور ان کی مدد کر دیتا ہے۔اس میں بتایا کہ کامل مومن کو سوال نہیں کرنا چاہئے مگر منع بھی نہیں کیا۔یعنی مانگنا قطعی حرام نہیں کیونکہ بعض دفعہ انسان اس کے لئے مجبور ہوجاتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ و سلم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا۔اور اس نے عرض کیا مجھے کچھ دیں۔آپ نے دیا۔اس نے پھر مانگا۔آپ نے پھر دیا۔اس نے پھر مانگا آپ نے پھر دیا۔پھر آپؐ نے فرمایا۔میں تمہیں ایک بات بتاؤں؟ اور وہ یہ کہ مانگنا اچھا نہیں ہوتا۔اس نے اقرار کیا کہ آج کے بعد میں کسی سے نہیں مانگوں گا۔ایک صحابی ؓ کہتے ہیں ایک جنگ کے دوران اس کا کوڑا گر گیا۔دوسرا شخص اٹھا کر دینے لگا تو اس نے کہا تم نہ دو۔میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں کسی سے کچھ نہیں لوں گا۔اس پر وہ خود اترا اور کوڑا اٹھایا۔تو جہاں اسلام نے صدقات پر اتنا زور دیا ہے کہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیوں نہ لیں۔وہاں یہ بھی بتادیا کہ مانگنا نہیں چاہئے۔یہ بات دینے والے پر رکھو کہ وہ تلاش کر کے دے۔