انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 30

۳۰ مسلمانوں کو یہ حق دینے کے لئے تیار ہیں۔کہا جاتا ہے مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم تو نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کیا وید میں سود لینے کا حکم ہے اور لکھا ہے کہ جو سود نہ لے گا اس کی مکتی نہ ہوگی۔اگر نہیں تو گائے اور سود کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔انہیں ان کا مذہب سود لینے سے روکتا ہے۔لیکن ہمارا مذ ہب گائے ذبح کرنا جائز قرار دیتا ہے اور سودی کاروبار کو خدا سے جنگ بتاتا ہے۔پھر ہم مسلمان ہی گائے کا گوشت کھاتے ہیں دوسرے ہماری نقل نہیں کرتے۔مگر ہندوؤں کا سودی کار و بار دیکھ کر کچھ مسلمان بھی سود لینے لگ گئے ہیں۔اگر اسی اصل پر عمل کرنا چاہئے تو کیا دو سری قومیں اس کے لئے تیار ہیں؟ ہمیں تو اس اصل کی صحت سے انکار ہے۔لیکن جو اس پر عمل کرتے ہیں کیا وہ یہ کہنے کے لئے تیار ہیں کہ مسلمانوں کو ان کی جو بات ناگوار ہو اس میں وہ بھی جبر کر لیں۔کیا اس طرح ملک میں امن قائم رہ سکتا ہے اور ملک کے باشندے امن کی زندگی بسر کر سکتے ہیں۔اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ جہاں مسلمانوں کا زور ہواوہاں مسلمانوں نے ہندوؤں کو دبا لیا۔اور جہاں ہندوؤں کا زور ہوا وہاں انہوں نے مسلمانوں کو دبا لیا۔اس سے نہ کوئی قوم قائم رہ سکتی ہے نہ امن قائم ہو سکتا ہے۔جب ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں تو اس سچائی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے زندگی بسر نہیں کی جا سکتی۔منہ سے سَوَراج سَوَراج ۱؎ کہنے سے سَوَراج حاصل نہیں ہو سکتا۔نہ وطنیت ، وطنیت کہنے سے قائم ہو سکتی ہے۔بلکہ جب یہ سمجھ لیں کہ ہندوستان میں کئی مذاہب قائم ہیں جن کا آپس میں اختلاف ہے اور ہر ایک کا حق ہے کہ اپنے اپنے مذہب پر چلے۔دوسرے کو کسی کے مذہبی معاملات میں دخل نہ دینا چاہئے اس وقت و طنیّت قائم ہو سکتی ہے۔لیکن جب تک اس بات کو تسلیم نہ کر لیا جائے اور اس کے مطابق زندگی بسر نہ کی جائے اس وقت تک وطنیّت قائم ہو سکتی ہے نہ سَوَراجیہ مل سکتا ہے۔ہم اس رواداری سے کام لینے کے لئے تیار ہیں اور اس کا عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ہمارے مرکز میں غیر مذاہب کے لوگ ایسے کام کرتے ہیں جن سے مسلمانوں کے احساسات کو شدید صدمہ پہنچتا ہے مگر ہم ان میں دخل نہیں دیتے بلکہ یہ کہتے ہیں ہر ایک کی مرضی اور اختیار ہے ، جو چاہے کرے۔جب دوسروں کے متعلق ہمارا یہ رویہ ہے تو ہم یہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں کہ وہ چیز جو ہمارے مذہب نے ہمارے لئے جائز قرار دی ہے وہ دوسروں کے دباؤ پر چھوڑ دیں۔ہم اپنی مرضی اور اختیار اور سمجھو تہ سے جو انہیں چھوڑ دیں مگر یہ کبھی نہیں ہو سکتا