انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 565

۵۶۵ فضائل القرآن(نمبر ۳) سے احسان کا مادہ حیوانوں اور پرندوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ان کے پاس روپیہ پیسہ نہیں ہوتا بلکہ چونچ اور زبان ہوتی ہے اس لئے وہ اسی سے اس جذبہ کا اظہار کرتے ہیں۔انسانوں کے پاس مال و دولت اور دوسری اشیاء ہوتی ہیں وہ ان کے ذریعے دوسروں کی امداد کرتے ہیں۔بہرحال صدقہ اور خیرات کا مسئلہ اتنا موٹا اور اتنا عام ہے کہ کسی مذہب میں اس کے متعلق نامکمل اور ناقص تعلیم نہیں ہونی چاہیے۔بلکہ ہر مذہب میں مکمل تعلیم ہونی چاہیے تھی۔کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر آدم ؑ سے لے کر اس وقت تک لوگ عمل کرتے چلے آرہے ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگر اس کے متعلق اسلامی تعلیم افضل ثابت ہو تو باقی مسائل کی تفصیلات میں اس کی تعلیم افضل ثابت نہیں ہو سکتی۔صدقہ کے متعلق انجیل کی تعلیم صدقہ کے متعلق جب ہم مختلف مذاہب کی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو عجیب و غریب باتیں نظر آتی ہیں۔انجیل میں آتا ہے۔’’یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہت میں داخل ہو نا مشکل ہے اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔۶؂ گویا انجیل کی رو سے جب تک کوئی شخص اپنا سب کا سب مال خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ دے دے اس وقت تک اس کا دیا ہوا مال خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتا۔اسی طرح آتا ہے۔’’اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے دے تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔‘‘۷؂ پھر صدقہ کے متعلق حضرت مسیح ؑ فرماتے ہیں۔’’جب تو خیرات کرے توجوتیرا داہنا ہاتھ کرتا ہے اسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے تاکہ تیری خیرات پوشیدہ رہے۔اس صورت میں تیرا باپ جوپوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔‘‘۸؂ ان حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل نے صدقہ و خیرات کے متعلق یہ بتایا ہے کہ