انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 13

۱۳ امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے ان کے جائز حقوق کا ہمیشہ احترام کیا ہے- چنانچہ پچھلے دنوں جب ایک احمدی نو مسلم کی کتاب کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا کہ اس سے ان کی دل آزاری ہوئی ہے- تو گورنمنٹ نے بھی ان کی آواز پر توجہ نہ کی تھی کہ میں نے خود اس کتاب کو ضبط کر لیا اور انہیں اس امر کا اقرار ہوگا کہ میرا ضبطی کا حکم گورنمنٹ کے حکم سے زیادہ موثر تھا- کیونکہ نہ صرف اس کتاب کی خریداری رک گئی بلکہ فروخت شدہ کتاب یا اس کے قابل اعتراض حصے ہر جگہ جلا دیئے گئے- پس میں مخلصانہ طور پر انہیں مشورہ دینے کا حق رکھتا ہوں کہ گاؤکشی کے سوال کے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے وہ دو باتوں پر غور کر لیں- اول اس کا مذہبی پہلو ہے- سکھ اصحاب یہ امر بھلا نہیں سکتے کہ حضرت باوا نانک علیہ رحمتہ نے توحید کے قیام کے لئے ہر قسم کی قربانی سے کام لیا ہے- پس جس چیز کو قائم کرنے کے لئے انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے آرام کو قربان کر دیا تھا- اس چیز کو محض ایک عارضی معاہدہ کے قیام کے لئے تباہ ہونے دینا ہر گز اپنے آباء کی خدمات توحید کا اچھا اعتراف نہ ہوگا- دوسرے انہیں یہ بات نہ بھلانی چاہئے کہ جب تک گاؤ کشی کے متعلق عام سکھوں کے جوش کی موجودہ حالت قائم رہے گی اس وقت تک سکھ پبلک کے دو لیڈر رہیں گے- ایک ہندو ساہوکار اور دوسرے سکھوں کے قومی لیڈر- چنانچہ مذبح قادیان کا واقعہ اس امر کا بین ثبوت ہے- باوجود اس کے کہ سردار کھڑک سنگھ صاحب جیسے قومی لیڈر خود قادیان میں کہہ آئے تھے کہ گاؤکشی پر سکھوں کو اور جھٹکہ پر مسلمانوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے- مسلمانوں نے تو ان کی نصیحت پر عمل کر کے جھٹکہ پر اعتراض نہ کیا- مگر سکھوں کو ہندو جوش دلانے میں کامیاب ہو گئے- پہر انہدام مذبح کے بعد بھی اکالی اور خالصہ سکھوں کے دونوں حصوں کے موقر اخبارات کے سمجھانے کے باوجود قادیان اور اس کے گردو نواح کے سکھوں پر کوئی اثر نہیں ہوا- پس گاؤکشی کے متعلق سکھوں کے رائج الوقت خیالات ان کے قومی شیرازہ کے باندھنے میں بھی روک ہیں- پس امید ہے کہ اپنے مذہب کی جان یعنی توحید کی حفاظت اور اپنے قومی شیرازہ کی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھ لیڈر اپنی قوم کو اس مشرکانہ خیال کی تائید میں کھڑا ہونے سے باز رکھیں گے بلکہ توحید کے قیام کے لئے ہمارے دوش بدوش کھڑے ہوں گے- میں امید کرتا ہوہ کہ اوپر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مسلمان اپنے