انوارالعلوم (جلد 11) — Page 388
۳۸۸ یعنی جن کے ووٹروں کی الگ فہرست بنائی جاتی ہے انہیں کے حق میں اس قانون کو سمجھا جائے گا- یہ تعریف بے شک ایک حد تک مشکل کو حل کر دیتی ہے لیکن بعض صوبوں میں اس تعریف سے بھی کام نہیں چلتا- مثلاً پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ ایک عام حلقہ انتخاب ہے- پس معلوم ہوا کہ یہ حق پنجاب میں مسلمانوں اور سکھوں کو ملا ہے- لیکن یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اوپر کی دونوں قوموں کو چھوڑ کر ہندوؤں اور مسیحیوں کے سوا کسی اور مذہب کے لوگ پنجاب میں نہیں ہیں اور مسیحیوں کی تعداد بھی اس قدر کم ہے کہ یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ نام کے سوا عام حلقہ انتخاب میں ہندوؤں کے سوا کوئی اور قوم بھی شامل ہے- پس ہندو میرے نزدیک جائز طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں اور سکھوں کو الگ کر کے درحقیقت عام حلقہ انتخاب کا لفظ محض ایک نام کی حیثیت رکھتا ہے ورنہ اس سے مراد ہندو ہی ہیں اس لئے یہ حق پنجاب میں ہماری خاطر بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ مسلمانوں اور سکھوں کی خاطر اور کم سے کم میرے نزدیک ان کا یہ دعویٰ خلاف عقل نہیں ہوگا- پس ان حالات میں وہی ہندو جو آج اپنے فائدہ کے لئے مخلوط انتخاب کا دعویٰ کرتے ہیں کل کو مسلمانوں کا فائدہ دیکھ کر علیحدہ انتخاب پر زور دیں گے- اس وقت اس طریق کو جو درحقیقت ایک عارضی تدبیر کے طور پر ہے کس طرح چھوڑا جا سکے گا؟ ابھی چند دن ہوئے ایک مشہور مسلمان سیاسی لیڈر سے اس بارہ میں میری گفتگو ہوئی اور میں نے ان سے یہی سوال کیا کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اس طریق انتخاب کو چھوڑنا پڑے گا- اس وقت ہم کس طرح اس طریق کو چھوڑ سکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے اختیار میں ہوگا کہ ہم چھوڑ دیں- میں نے کہا کہ سائمن رپورٹ نے پنجاب میں اسے ہمارے اختیار میں نہیں رکھا بلکہ ہندو، مسلمان، سکھ تینوں قوموں کی رضامندی پر اس کے منسوخ ہونے کو منحصر رکھا ہے- انہوں نے کہا کہ بے شک لیکن ہم یہ زور دیں گے کہ جس کی خاطر یہ قانون رکھا جائے اس کی مرضی پر یہ منسوخ ہونا چاہئے- میں نے کہا کہ اگر راؤنڈٹیبل کانفرنس کے موقع پر ہماری اس دلیل کو کارگر ہوتے دیکھ کر سکھوں اور ہندوؤں نے بھی پنجاب میں اپنے لئے علیحدہ انتخاب کا مطالبہ پیش کیا تو پھر؟ انہوں نے جواب دیا کہ تب ہم مخلوط انتخاب کی طرف آ جائیں گے- سکھ اور ہندو جُداگانہ انتخاب کو اختیار کر لیں گے اور مخلوط انتخاب ہمارے حصہ میں آ جائے گا جو کہ اس صورت میں بغیر جُداگانہ انتخاب کا الزام اپنے سر لینے کے جُداگانہ انتخاب کے