انوارالعلوم (جلد 11) — Page 350
۳۵۰ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یونائیٹڈ سٹیٹس کے قانون اساسی میں بیرونی اور ریاستوں کی باہمی تجارت فیڈرل گورنمنٹ کے سپرد تھی اور اندرونی تجارت ریاستوں کے سپرد تھی- مگر ریلوں کی ایجاد نے اس فرق کو اڑا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سپریم کورٹ کو بہت بڑی ہوشیاری سے اس قانون کو توڑ مروڑ کر صورت حالات کے مطابق کرنا پڑا- اگر فیڈرل طریق حکومت ہوا تو اسی قسم کی مشکلات ہندوستان کو بھی پیش آئیں گی- میرا جواب یہ ہے کہ ضرورت نے ساتھ ہی یہ عقل بھی تو سکھا دی کہ موجودہ زمانہ میں ہم کانسٹی چیوشن کو کیا رنگ دے سکتے ہیں پھر ڈر کس بات کا؟ دوسرے یہ اعتراض درحقیقت اعتراض ہی نہیں کیونکہ قانون اساسی بدلا بھی تو جا سکتا ہے- جب فیڈرل حکومت کے تمام حصوں کو نئے حالات کے ماتحت کوئی نقص معلوم ہوگا تو وہ خود خواہش کریں گے کہ قانون اساسی کو بدل دیا جائے اور صوبوں کو اپنی خواہش کے بعد اس قانون کے بدلنے میں کوئی روک نہیں ہو سکتی- غرض فیڈرل طرز حکومت پر جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ کوئی وقعت نہیں رکھتے- یہ نظام بھی جب اس ملک میں جاری کیا جائے جس میں ملک کے مختلف حصے یا اس کی مختلف اقوام آپس میں ایک دوسرے پر اعتبار نہ رکھتی ہوں اور ایک دوسرے سے خائف ہوں تو بجائے اختلاف کی خلیج بڑھانے کے اتحاد قلبی کے پیدا کرنے کے لئے راستہ صاف کر دیتا ہے اور دلوں کو اس امر کے لئے آمادہ کر دیتا ہے کہ اگر ضرورت ہو تو کسی وقت زیادہ اتصالی کیفیت گورنمنٹ پیدا کر لی جائے اور جس ملک کے مناسب حال یہ طریق حکومت ہو اس میں اس کو جاری نہ کرنا بلکہ یونیٹری (UNITARY)طریق حکومت جاری کرنا اتحاد نہیں بلکہ فساد پیدا کرتا ہے- مسٹر جیمز بیک JAMES BECK(۔MR (یونائیٹڈ سٹیٹس کے سالٹر جنرل نے یونائٹیڈسٹیٹس کے متعلق جو مندرجہ ذیل فقرہ کہا ہے اس سے ہم ہندوستان کے آئندہ نظام کے متعلق فائدہ اٹھا سکتے ہیں- وہ لکھتے ہیں-: ‘’ایک ایسے ملک میں جو ایٹلانٹک سے پیسفک تک اور (شمالی امریکہ کی)جھیلوں سے لے کر (میکسیکو کی) خلیج تک پھیلا ہوا ہے- جس کا شمالی کونہ قطب شمالی کے سمندر سے زیادہ فاصلہ پر نہیں ہے اور جس کا جنوبی حصہ خط استواء سے کچھ زیادہ بعید نہیں ہے- عادات، رسوم اور طبائع کے لحاظ سے لوگوں میں اس قدر اختلافات میں کہ اگر ثنائیت (ڈویل ((DUAL کی قسم کی حکومت نہ ہوتی تو نظام حکومت کبھی کا تباہ