انوارالعلوم (جلد 11) — Page 332
۳۳۲ لوگوں کے قلوب میں ایک اطمینان سا پیدا ہو جاتا ہے- اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ محبت کے جذبات ہمیشہ ایگزیکٹو سے تعلق رکھتے ہیں، عدالت سے نہیں- کیونکہ اس کی وجہ ایگزیکٹو کے فیصلوں کی خوبی نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ عدالت کی بنیاد دلیل پر ہے اور ایگزیکٹو کی احساسات پر، اور محبت احساسات سے تعلق رکھتی ہے چنانچہ اس کے مقابل پر یہ امر بھی دیکھا جائے گا کہ نسبتی طور پر لوگ عدالت سے اس قدر نفرت بھی نہیں کرتے جس قدر ایگزیکٹو سے، اور اس کی وجہ بھی وہی ہے کہ ایگزیکٹو کا احساسات سے زیادہ تعلق ہے- مجھے جن جن صاحب علم و تجربہ اور بارسوخ مسلمانوں سے اس بارہ میں تبادلہ خیالات کا موقع ملا ہے میں نے ان سب کو اس امر کے خلاف پایا ہے کہ اختلاف کی صورت میں عدالت پر آئین اساسی کی تشریح کو چھوڑا جائے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ جج کہاں سے لائے جائیں گے جو منصفانہ طور پر فیصلہ کریں گے- اگر تو وہ ہندوستان کی حکومت کی طرف سے مقرر شدہ ہونگے اور ہندو یا مسلمان ہونگے تو بوجہ اس کے کہ آئینی سوالوں کے ساتھ خود ان کے مفاد وابستہ ہوں گے ان کی رائے تعصب کیا ذاتیات سے بھی آزاد نہ ہوگی اور اگر وہ جج برطانیہ کی طرف سے مقرر کر کے بھیجے گئے تو بھی یہ سوال رہے گا کہ برطانیہ ضرور اکثریت کے خیالات سے مرعوب ہوگا اور وہ ایسے جج مقرر نہیں کرے گا جو تمام تعصبات سے بالا ہوں- بے شک اس دلیل میں ایک حد تک وزن ہے- لیکن میرا سوال یہ ہے اور اس کا جواب اس وقت تک کوئی مجھے نہیں دے سکا کہ پھر فیصلہ کس طرح ہوگا؟ یا تو یہ تسلیم کیا جائے کہ میجاریٹی (MAJORITY) کبھی بھی آئین اساسی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گی- تب بیشک کسی تیسرے محکمہ کی ضرورت نہ ہوگی جو اختلاف کی صورت میں آئین اساسی کے معنی کرے- لیکن اگر میجارٹی پر اس قدر حسن ظن ہے تو پھر حفاظتی تدابیر کی ضرورت ہی کیا ہے؟ لیکن اگر یہ ممکن بلکہ قرین قیاس ہے کہ میجارٹی دانستہ یا نادانستہ ایسے فیصلے کرے گی جو آئین ا ساسی کے خلاف ہونگے- یا بعض حالات میں کوئی اقلیت یا کوئی صوبہ یا تمام صوبہ جاتی حکومتیں مرکزی حکومت کے کسی فیصلہ کو آئین اساسی کے خلاف قرار دیں گی تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس اختلاف کا فیصلہ کرنے والا بھی کوئی صیغہ ہو- اگر ایسا صیغہ کوئی نہ ہو تو آئین اساسی کا فائدہ کیا ہے- اس صورت میں وہ اقلیتوں کے لئے ایسا ہی غیر مفید ہے جیسا کہ عام قانون-