انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 294

۲۹۴ اس مرض سے بچی ہوئی ہے- چنانچہ اس وقت شہادت کے طور پر میں خود مسٹر گاندھی کو پیش کرتا ہوں- مسٹر گاندھی نے ۱۹۱۸ء میں ایک تقریر کے دوران میں بیان کیا- ‘’یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ یورپین کے لئے گاؤ کشی جاری رہنے کی بابت ہندو کچھ بھی محسوس نہیں کرتے- میں جانتا ہوں کہ ان کا غصہ اس خوف کے نیچے دب رہا ہے جو انگریزی عملداری نے پیدا کر دیا ہے- مگر ایک ہندو بھی ہندوستان کے طول وعرض میں ایسا نہیں ہے جو ایک دن اپنی سرزمین کو گاؤ کشی سے آزاد کرانے کی امید نہ رکھتا ہو- اور ہندو مذہب کو جیسا کہ میں جانتا ہوں، اس کی روح کے سراسر خلاف عیسائی یا مسلمان کو بزور شمشیر بھی گاؤ کشی چھوڑنے پر مجبور کرنے سے اِغماض نہ کرے گا’‘- ۲۱؎ مسٹر گاندھی کے اس بیان کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جذبہ تعصّب صرف چند جاہل افراد میں ہے اور اس کی زیادہ پرواہ نہیں کرنی چاہئے- ہندوؤں کے آئندہ ارادے اقلیت کے متعلق اس امر کے ثابت کرنے کے بعد کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے لئے اکثریت نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے جس کی موجودگی میں صرف ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو حفاظت کا ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا- اب میں یہ بتاتا ہوں کہ ہندوؤں کے آئندہ ارادے اقلیت کے متعلق کیا ہیں کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک اکثریت پہلے سے ارادہ کر کے آزادی کے حصول کو اقلیت کی ہر محبوب چیز کے قربان کرنے کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے تو یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ اس کا نقطہ نگاہ کسی قریب کے مستقبل میں بدل جائے گا- انگریزی حکومت سے وفاداری کا مسلمانوں کو کیا صلہ ملے گا ہندوؤں کے مشہور قومی لیکچرار ستیہ دیو صاحب اپنے ایک لیکچر میں بیان کرتے ہیں-: ‘’میرا خیال ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل اگر وہ قوم پرست نہ بنیں بڑے خطرہ میں رہے گا- ہندوستان کے مسلمان اگر اپنے مذہبی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیوانہ پن میں ڈوبے رہے (یعنی ہندو نہ ہو گئے) تو ان کا کام صرف بدیشی گورنمنٹ کی مدد کر کے ہندوستان