انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 211

۲۱۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دشمن کی نظر میں أعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسؤله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصر آنحضرت ﷺ ایک دشمن کی نظر میں سرولیم میور کے- سی- ایس- آئی- جو یو-پی کے ایک سولین تھے اور آخر ترقی کرتے کرتے یو- پی کے لفٹیننٹ گورنر ہو گئے- انہوں نے ایک کتاب آنحضرت ﷺ کے سوانح پر لکھی ہے جو اس موضوع پر مغربی لوگوں کی کتابوں میں سے اگر بہترین نہیں تو بہترین کتابوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے- سرولیم میور اسلام اور بانی اسلام کے شدید ترین دشمنوں میں سے ہیں- مسلمانوں کے ساتھ مراسم اور حکومت کے ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ہونے کی وجہ سے وہ اپنے قلم کو بہت حد تک روکے رکھتے ہیں- لیکن ان کے متعصبانہ خیالات پھر بھی ان کی تحریر میں سے چھن چھن کر نکل ہی آتے ہیں- رسول کریم ﷺ کے متعلق جو زہر انہوں نے اگلا ہے اور جو نیش زنی انہوں نے کی ہے وہ قابل تعجب نہیں کیونکہ برتن میں سے وہی ٹپکتا ہے جو کچھ اس کے اندر ہوتا ہے مگر اس امر پر حیرت ضرور ہے کہ رسول کریم ﷺ کا حسن کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں بھی شناخت و عرفان کی ایک جھلک پیدا کر دیتا ہے اور وہ بھی اس حسن دلآویز کی دید میں محو ہوتے ہوئے نظر آنے لگتے ہیں- مسیحیت کا یہ تیر انداز مجنونانہ طور پر آنحضرت ﷺ کی ذات پر تیر پھینکنے کے بعد جب والہانہ رنگ میں زمین کی طرح جھکتا ہوا نظر آتا ہے کہ انہی خون کے قطروں کو جو اسی کے تیروں سے زمین پر گرے تھے ادب و احترام کے ساتھ چاٹ لے تو دل میں گدگدیاں ہوئے بغیر نہیں رہتیں- اس وقت یہ شخص عداوتواستعجاب کے متضاد جذبات کا مجسمہ نظر آتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ بادل کی طرح قدرت نے آگ اور پانی ایک ہی جگہ پر جمع کر دیئے ہیں- جب وہ حالت جاتی رہتی ہے تو