انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 199

۱۹۹ أعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسؤله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ - ھوالناصرٍ رسول کریم ﷺ ایک ملہم کی حیثیت میں ہر انسان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس کی کئی حیثیتیں ہوتی ہیں- مثلاً ایک نبی کی، ایک رسول کی، ایک ملہم کی، ایک مامور کی، ایک آمر کی، ایک معلم کی اور ایک مربی کی- ہر ایک حیثیت اپنی ذات میں ایک قیمتی جوہر اور دلفریب چیز ہوتی ہے- جسے دیکھ کر انسان بیاختیار ہو جاتا ہے اور اس کا دل اس اقرار پر مجبور ہوتا ہے کہ اس کے تمام افعال کسی زبردست طاقت کے تصرف کے ماتحت ہیں- میں اس وقت رسول کریم ﷺ کے ملہم ہونے کی حیثیت کو لیتا ہوں کہ اس میں بھی آپ نہ صرف دوسری دنیا سے بلکہ سب نبیوں سے بڑھے ہوئے تھے- ملہم ہونے کی حیثیت میں جس چیز کو ہمیں دیکھنا چاہئے وہ نبی پر نازل ہونے والا کلام ہے- اس کلام کی حیثیت کے مطابق ہم نبی کی شان کا اندازہ لگا سکتے ہیں- کیونکہ کلام اسی قدر طاقتیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے جس قدر کام کی اس سے امید کی جاتی ہے- اگر یہ صحیح ہے کہ نبی کا ہتھیار اس کا کلام ہوتا ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ضرورت کے مطابق ہی ہتھیار اسے دیا جائے گا- اگر بڑے دشمن کا مقابلہ ہے اور بہت بڑی فتوحات اس کے ذمہ لگائی گئی ہیں تو یقیناً بہت کاری ہتھیار اسے دینا ہوگا تا کہ وہ اپنا کام کر سکے- لیکن تعجب ہے کہ دنیا نے اس صاف اور سیدھی صداقت کو نہیں سمجھا اور کئی بے وقوف کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو سوائے قرآن کریم کے کوئی معجزہ نہیں ملا اور اس سے انہیں یہ بتانا مطلوب ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بھلا کیا معجزہ ہونا تھا- پس اگر اس کے سوا کوئی معجزہ نہیں ملا تو گویا کوئی معجزہ ہی نہیں ملا- لیکن یہ خیال ان لوگوں کا محض ناسمجھی یا حماقت پر مبنی ہے- اول تو یہ درست نہیں کہ