انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 165

۱۶۵ لحاظ سے کیسی ضروری اور اہم ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ صرف یہی ایک کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں باقی سب میں ملاوٹ ہے۔تورات کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا ایک ایک لفظ خدا کا ہے بلکہ اس میں ایک جگہ تو یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ خدا وند کا بندا موسیٰ خدا وند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا۔اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔‘‘۷۳؂ اسی طرح انجیل کے متعلق کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے بندے کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔پس موٹی اور واضح ضرورت اس آیت کی یہی ہے کہ اس میں دنیا کو یہ بتایا گیا ہے کہ باقی کتابوں میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن صرف یہی ایک کتاب ہے جس میں کوئی ملاوٹ نہیں۔ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ یہ تو قرآن کا دعویٰ ہی دعویٰ ہے جو اس وقت کیا گیا جب قرآن نازل ہوا۔اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ بعد میں بھی اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہو سکی۔سو اس کے متعلق فرماتا ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہ‘ لَحَافِظُوْنَ ۷۴؂ہم نے ہی اس قرآن کو اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔گویا آئندہ کے متعلق بھی ہم اس بات کا ذمہ لیتے ہیں کہ کوئی شخص اس میں تغیر و تبدل نہیں کر سکے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک اس کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اسی شکل میں محفوظ ہے جس شکل میں وہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا۔ربوبیت عالمین کا بلند تصور (۶) فضلیت کی چھٹی وجہ یہ ہوا کرتی ہے کہ کوئی چیز اپنی ہو کیونکہ اپنی چیز ہمیشہ دوسروں کی چیزوں سے پیاری لگتی اور افضل نظر آتی ہے۔قرآن کریم کو جب ہم اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اپنی چیز نظر آتا ہے۔مثلاً قرآن کریم نے رب العٰلمین کا خیال لوگوں میں پیدا کیا اور اس طرح قومی خداؤں کا تصور باطل کیا۔بائیبل پڑھ کر دیکھو تو اس میں اس طرح ذکر آتا ہے بنی اسرائیل کا خدا۔تیری قوم کا خدا۔فلاں قوم کا خدا۔ویدوں کو پڑھ کر دیکھو تو برہمنوں کا خدا الگ معلوم ہوتا ہے اور دوسروں کا الگ۔مگر قرآن کی ابتداء ہی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ