انوارالعلوم (جلد 11) — Page 160
۱۶۰ اس وقت ان سے کہا جائے گا تمہیں یہاں سے نور نہیں مل سکتا۔اگر طاقت ہے تو تم پیچھے کی طرف لوٹ جاؤ۔اور وہیں جاؤ جہاں سے تم آئے ہو۔اور وہاں جا کر نور کی تلاش کرو۔اس میں بتایاکہ وہ نور جو اگلے جہان میں کام آئے گا اسی دنیا میں ملتا ہے۔وہاں جانے کے بعد نہیں ملے گا۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انسان اسی دنیا میں نیکیاں کرے تب اگلے جہان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔مگر دیکھو رحمت الٰہی بھی کس قدر وسیع ہے۔کہا جا سکتا تھا کہ جب دنیامیں کسی کو نور نہیں ملا تو کیا پھر اسے کبھی نور نہ مل سکے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائے گا اور اگر اسے نور مل سکتا ہے جس کی طرف فَالْتَمِسُوْا نُوْرًامیں ایک مخفی اشارہ ہے تو کیسے۔اس کے متعلق فرمایا۔فَضُرِبَ بَیْنَھمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۔منافقوں اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی اور اس میں ایک دروازہ رکھا جائے گا۔یہ تو صاف بات ہے کہ جنت والے تو جنت سے باہر نہیں جائیں گئے اس لئے یقینایہ دروازہ اسی لئے رکھا جائے گا کہ باہر والے اندر آجائیں۔پس بتایا کہ گو نور اسی دنیا میں حاصل ہو سکتا ہے لیکن جو اس سے محروم رہیں گے انہیں بعض حالتوں میں سے گذارنے کے بعد معاف کر دیا جائے گا۔اور وہ اس دروازہ میں سے گذر کر جنت میں داخل ہو جائیں گے۔بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھرُہٗ مِن قِبَلِہِ الْعَذَابُمیں بھی اس طرف اشارہ ہے کے جنتی حواس اور قوتوں سے ہی دوزخ پیدا ہو تی ہے۔یعنی حواس حقیقی تو نیک ہی ہیں لیکن ان کے غلط استعمال سے دوزخ پیدا ہو تی ہے۔غرض اس دعویٰ میں بھی قرآن کریم کے ساتھ اور کوئی کتاب شریک نہیں ہے۔ایفائے وعدہ کا ثبوت اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اوپر جوکچھ بیان ہوا یہ تو دعویٰ ہے۔کیا ایفائے وعدہ بھی ہو گا سو اس کے متعلق فرمایا۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہ کَذِبًا أَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ أَلَیْسَ فِیْ جَھنَّمَ مَثْوًی لِّلْکَافِرِیْنَ۔وَالَّذِیْنَ جَاھدُوْا فِیْنَا لَنَھدِیَنَّھمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ۶۴یعنی اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اﷲ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کر افتراء کرے۔یا اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہو سکتا ہے جو اس سچائی کا انکار کر دے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس آئے۔کیا ایسے کافروں کی جگہ جہنم نہیں ہونی چاہئے؟ہاں وہ جو ہماری تعلیم قرآن کے مطابق ہم سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں ہم قسم کھا