انوارالعلوم (جلد 11) — Page 135
۱۳۵ اپنے لڑکے لڑکیوں کو پڑھنے کے لئے ایسی کتاب نہیں دے سکتے۔لیکن قرآن کریم شروع سے لے کر آخر تک ایسی پاک زبان میں ہے کہ بڑے سے بڑا دشمن بھی اس پر اعتراض نہیں کرسکتا۔ظاہر سے باطن کی طرف لے جانے والا کلام نویں خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ وہ ظاہر سے باطن کی طرف لے جاتا ہے۔کہیں چلتے پانیوں سے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کہیں برستے بادلوں کا ذکر کر کے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کہیں چمکتی بجلی میں خدا تعالیٰ کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہیں دفن ہونے والے مُردوں کا ذکر کرکے خدا تعالیٰ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہیں پیدا ہونے والے بچوں کا حوالہ دے کر قدرت خدا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہیں نجاستوں اور گندوں کا ذکر کر کے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔کہیں پاکیزگی کی ترغیب اور تحریص دلانے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔غرض قرآن پڑھ کر انسانی فطرت بول اٹھتی ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے انسانی قلب کا نقشہ کھینچ رہا ہے۔لیکن دوسری کتب میں اس طرح قانونِ نیچر کی طرف توجہ نہیں دلائی گئی۔جذباتِ انسانی سے اپیل دسویں خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ وہ انسان کے اعلیٰ جذبات سے اپیل کرتا ہے۔انسانی پیدائش کی خوبیاں بتاتا ہے۔انسانی طاقتوں اور قوتوں کا ذکر کرتا ہے اور تحریک کرتا ہے کہ ان سے کام لو اور ترقی کرو۔اس کے ساتھ ہی یہ بتاتا ہے کہ ان باتوں سے بچو ورنہ ترقی سے محروم رہ جاؤ گے۔یہ ایسی باتیں ہیں جن سے ہر سلیم الفطرت انسان متاثر ہوتا ہے۔غرض ظاہری حسن میں بھی قرآن کریم ایک افضل کتاب ہے اور اس کی عبارت کو پڑھ کر انسان متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ہاں جو لوگ قصوں کے شیدا ہیں ان پر اس کی عبارت بیشک گراں گذرتی ہے۔قرآن کریم میں تکرار پائے جانے کا اعتراض قرآن کریم کی ظاہری خوبیوں کے متعلق جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کے میں جواب دے چکا ہوں۔اب ایک اعتراض باقی رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ قرآن ایک ایک فقرہ کو بار بار دہراتا ہے۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ دہرانے کا اعتراض قرآن کریم پر