انوارالعلوم (جلد 11) — Page 99
۹۹ وسعتِ نفع کے لحاظ سے فضیلت چھٹے۔کبھی وسعت نفع کے لحاظ سے بھی فضیلت دی جاتی ہے۔مثلاً ایک دوائی کے متعلق یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنی بیماریوں میں نفع دیتی ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی طبائع پر اثر ڈالتی ہیں اور کتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔قرآن کریم اس لحاظ سے بھی مجھے افضل نظر آیا۔میعادِ نفع کے لحاظ سے فضیلت ساتویں۔نفع کے وقت کے لحاظ سے بھی کہ کتنے عرصہ تک کوئی چیز نفع پہنچاتی ہے ہم بعض دفعہ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دے دیتے ہیں۔جب ایک قسم کے دو کپڑے سامنے ہوں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک کپڑا کتنی مدت تک چلتا ہے اور دوسرا کتنی مدت تک۔ایک اگر ایک سال چلنے والا ہو اور دوسرا چھ ماہ تو ایک سال چلنے والے کو دوسرے پر فضیلت دے دی جائے گی۔قرآن کریم کی اس لحاظ سے بھی مجھے فضیلت نظر آئی۔نفع اٹھانے والوں کے مقام کے لحاظ سے فضیلت آٹھویں۔پھر فضیلت کی ایک وجہ ان لوگوں کی عظمت کے لحاظ سے بھی ہوتی ے جن کووہ نفع پہنچاتی ہے۔یعنی دیکھا جاتا ہے کہ کس پایہ کے لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔جن چیزوں کے متعلق یہ معلوم ہو کہ بڑے پایہ کے انسانوں کو نفع پہنچاتی ہیں ان کو دوسری چیزوں پر مقدم کر لیا جاتا ہے۔میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔نفع اٹھانے والوں کی اقسام کے لحاظ سے فضیلت نویں۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی اقسام کی چیزوں کو کوئی چیز نفع پہنچاتی ہے کیونکہ علاوہ افراد کے ، اقسام بھی ایک درجہ رکھتی ہیں۔ایک چیز ایسی ہے جو ایک کروڑ انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے اور ایک اور ہے کہ وہ بھی ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچاتی ہے لیکن ان میں فرق یہ ہو کہ ایک صرف ایک قسم کے لوگوں کو نفع پہنچائے۔مثلاً عیسائیوں یا ہندوؤں کو مگر دوسری ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچائے۔لیکن عیسائیوں ،ہندوؤں ، یہودیوں اور مسلمانوں سب کو نفع پہنچائے تو اسے افضل قرار دیا جائے گا۔غرض وسعت اقسام افراد کے لحاظ سے بھی ایک چیز افضل قرار دی جاتی ہے اس میں بھی مجھے قرآن کریم کی دوسری کتب پر فضیلت نظر آئی۔