انوارالعلوم (جلد 11) — Page 84
۸۴ دوستوں نے کیا تھا- مجھے یقین ہے کہ بہت سے دوستوں نے یہ وعدہ پورا کیا مگر دفتر کے رجسٹر میں صرف سولہ آدمیوں کے نام درج ہیں- چونکہ ان کے نام جلسہ کے موقع پر سنانے کا میں نے وعدہ کیا تھا اس لئے سناتا ہوں- وہ نام یہ ہیں- ۱ - منشی چراغ الدین صاحب گورداسپور- ۲- نواب بی بی صاحبہ اہلیہ محمد علی صاحب فیض اللہ چک- ۳- دولت خان صاحب بیری- ۴-الطاف حسین صاحب اودے پور کٹیا- ۵-بہادرصاحب کھریپڑ- ۶- دولت خان صاحب کاٹھ گڑھ- ۷- ملک اللہ رکھا صاحب- ۸-محمدعلی صاحب فیض اللہ چک- ۹- بابو احمد جان صاحب نینی تال- ۱۰- محمد عبدالرحیم صاحب رائیچور محبوب نگر- ۱۱- شیخ غلام حیدر صاحب تلونڈی راہوالی- ۱۲- خدا بخش صاحب جنرل سیکرٹری جماعت ہانڈو ضلع لاہور- ۱۳- نور دین صاحب احمدی ہانڈو- ۱۴-الہدادصاحب ہانڈو- ۱۵-مولوی امام الدین صاحب سیکھواں- ۱۶-میاں نانک صاحب سیکھواں- یہ رپورٹ صحیح نہیں- بہت زیادہ دوستوں نے وعدہ پورا کیا لیکن اگر سب نے بھی پورا کیا تو بھی دو سو چھیاسی کی تعداد کتنی تھوڑی ہے- یہ بہت اہم فرض ہے اور ہر احمدی کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے- میں نے مسلمانوں میں زندگی پیدا کرنے کے لئے ان کی سیاسیات میں دخل دیا، ان کے تمدنی معاملات میں حصہ لیا، ان کے معاشرتی امور کی طرف توجہ کی، ان کی تمدنی اصلاح کی کوشش کی مگر میں آخر کار اس نتیجہ پر پہنچا کہ مسلمان اگر زندہ ہونگے تو احمدی ہو کر ورنہ ان کی زندگی کی کوئی صورت نہیں- ان میں اتحاد نہیں، ان میں تنظیم نہیں، ان میں کام کرنے کی روح نہیں، ان میں زندہ رہنے کی خواہش نہیں، ان میں دیانت نہیں، ان میں شجاعت نہیں، ان میں غیرت نہیں، ان کی حرص بڑھی ہوئی ہے، ان میں تفرقہ پھیلا ہوا ہے، وہ بغض و کینہ کا شکار ہو رہے ہیں، وہ ایک دوسرے کے حسد کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے- میں نے چاروں طرف ہاتھ مارے اور ہر ممکن کوشش کی کہ ان میں بیداری پیدا ہو، مگر میں مایوس ہو گیا اور آخر کار میری نظر اسی کمزور جماعت پر آ کر ٹکی جو احمدی جماعت ہے- میرا اندازہ ہے کہ اگر پچیس لاکھ افراد کی جماعت بھی منظم اور احمدی ہو جائے تو مجھے ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ اس پر پہلے دن کا سورج نکلنے پر ہی یقیناً یورپ کے تمام فرقے تسلیم کر لیں گے کہ اسلام کے غالب ہونے میں شبہ نہیں- اب بھی عیسائیوں کی ایک بہت بڑی انجمن انگلش چرچ