انوارالعلوم (جلد 11) — Page 75
۷۵ نہیں جماعت کے نمائندے بن کر جائیں- یہی حال مسلم لیگ اور دیگر سوسائٹیوں کا ہے کہ ان میں احمدی جماعت کے نمائندے ہو کر جائیں تا کہ ہماری پالیسی متحدہ طور پر ان کے سامنے آئے- سَوَراج کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمارا کیا خیال ہے؟ اس کا جواب میں نے پہلے بھی دیا ہوا ہے اور اب بھی دیتا ہوں کہ پہلے سوراج گھر سے شروع ہونا چاہئے اور نفس پر حکومت کرنا سیکھنا چاہئے- اگر یہ نہیں تو ملک تو الگ رہا ایک گاؤں کے لئے سوراج حاصل نہیں کیا جا سکتا- جن لوگوں میں درندگی اور وحشت ہو ان کو حکومت ملے تو وہ ایک دوسرے کو ہی پھاڑیں گے- چونکہ روز بروز ایسی تحریکیں نکلتی رہتی اور ایسے امور پیش آتے رہتے ہیں جن میں جماعت کو راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے میں اپنی جماعت کے اخبارات کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہر ایسی بات کے متعلق فوراً مجھ سے پوچھ کر ہدایت شائع کر دیا کریں تا کہ لوگ دبدھا۱؎ میں نہ رہیں- اس سے اخبارات کو بھی فائدہ ہوگا- وہ اپ ٹو ڈیٹ (UP TO DATE )اور زیادہ دلچسپ بن جائیں گے اور لوگوں کو بھی فکر نہ رہے گی کہ کسی معاملہ کے متعلق انہیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے- ہمارے اخبارات سمجھتے ہیں چونکہ دیگر امور کے متعلق ہم خبریں شائع نہیں کرتے اس لئے جماعت کو ان کا پتہ نہیں ہوتا- حالانکہ لوگ دوسرے اخبارات بھی پڑھتے ہیں اور وہ اس بات کے محتاج ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے جماعت کا رویہ بیان کیا جائے- اس کے بعد حضور نے بیمہ کے متعلق اظہار خیالات کرتے ہوئے فرمایا- اس کے متعلق جماعت کے ایک خاص طبقہ میں ہیجان پایا جاتا ہے اور بڑی کثرت سے خطوط آتے ہیں کہ اس بارے میں فیصلہ کیا جائے- حضور نے اس کے متعلق جس قدر تحقیق کی- اس کا بالتفصیل ذکر کرنے اور بیمہ کی مختلف صورتیں بیان کرنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دو تحریروں کی بناء پر یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ-: بیمہ کی وہ ساری کی ساری اقسام جو اس وقت تک ہمارے علم میں آ چکی ہیں ناجائز ہیں- ہاں اگر کوئی کمپنی یہ شرط کرے کہ بیمہ کرانے والا کمپنی کے فائدہ اور نقصان میں شامل ہوگا، تو پھر بیمہ کرانا جائز ہو سکتا ہے- مگر میں نے مختلف کمپنیوں کے نمائندوں سے گفتگو کر کے معلوم کیا ہے کہ موجودہ قواعد کے رو سے وہ اس قسم کا انتظام نہیں کر سکتے- لیکن چونکہ جماعت کی