انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 74

۷۴ وہ سمجھے- یہ ان میں ایک نہایت ہی قابل قدر خوبی تھی اور اس کا انکار ناشکری ہوگی- یہ خوبی پیدا کئے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی کہ ہر شخص محسوس کرے کہ سب کام مجھے کرنا ہے اور تمام کاموں کا میں ذمہ وار ہوں- میں سمجھتا ہوں ایسے ہی لوگوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر مجھے چالیس مومن میسر آ جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر لوں- یعنی ان میں سے ہر ایک محسوس کرے کہ مجھ پر ہی جماعت کی ساری ذمہ داری ہے اور میرا مرض ہے کہ ساری دنیا کو فتح کرو- خدا کرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش سے بہت بڑھ چڑھ کر ایسے لوگ ہوں- جیسا کہ نبیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی سنت ہے ایسے چالیس آدمی نہیں بلکہ لاکھوں میسر کر دے جن میں سے ہر ایک یہ سمجھے کہ آسمان اور زمین کا بار اٹھانا اسی کا فرض ہے- پھر اس سال افراد کے لحاظ سے جماعت نے جو ترقی کی- وہ بیان کی- سماٹرا میں احمدیت کی ترقی، وہاں کے احباب کا حصول، دین کی خاطر قادیان آنا اور احمدیہ مشن امریکہ کی کامیابی کا ذکر فرمایا- پھر مذبح قادیان کے واقعات کا اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس کے متعلق احباب جماعت کے جوش کی تعریف فرمائی- سیاسی تحریکات کے متعلق فرمایا- ایسی تمام تحریکات جو قانون شکنی کا موجب نہ ہوں، فساد اور بدامنی پیدا نہ کریں، ان میں ہم شریک ہو سکتے ہیں اور دوسروں سے بڑھ کر ان میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ مومن کا یہ بھی کام ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق دلائے- یہ اسلام کا حکم ہے مگر اس کے ساتھ ہی اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ شرارت نہ ہو، فساد نہ ہو، فتنہ نہ ہو- دنیا ہمیں خواہ کچھ کہے ہم سب کچھ برداشت کر لیں گے لیکن جو دین کا حکم ہے اسے ہم کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے- بعض لوگ گھبرا کر لکھتے ہیں اگر ہم دوسروں کے ساتھ ان کے ہر ایک کام میں شامل نہ ہوں تو وہ گالیاں دیتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ کیا تم لوگوں نے پہلے گالیاں نہیں کھائیں- اگر راستی اور امن کے قیام کے لئے لوگ برا بھلا کہیں تو کہہ لیں ہمیں اس کی پرواہ نہیں- ہاں ہم تمام ان تحریکوں میں جو قانون کے اندر ہوں ہر جائز خدمت اور جائز قربانی کرنے کیلئے تیار ہیں اور بحیثیت جماعت ان میں شامل ہو سکتے ہیں- البتہ افراد کا حق نہیں کہ آپ ہی آپ کسی تحریک میں شامل ہو جائیں جو گورنمنٹ سرونٹ نہیں وہ اس میں بھی شامل ہو سکتے ہیں مگر اپنے آپ