انوارالعلوم (جلد 10) — Page 30
۳۰ پر) بھی ضروری ہے۔مجھے ایک نام سوجھا ہے اور وہ جمعية الاخوان ہے۔ہر جگہ کی انجمن اسی نام کی ہو اور وہ آزاد ہو لیکن بایں وہ سب کی سب مل کر ترقی کر رہی ہوں گی۔میں اس انجمن کے متعلق عام قواعد بھی تیار کر رہا ہوں تاکہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔چوتھا فرض قومی آزادی چوتھا فرض قومی آزادی ہے۔اگر کوئی قوم دوسروں کی دست نگر ہو تو وہ اپنے قومی حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی۔اور جب قومی حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی تو پھر ہمسایوں سے لڑنے لگتے ہیں۔اس ملک میں انگریزی تعلیم کا جب اجراء ہوا تو علماء نے انگریزی پڑھنے کے متعلق کفر کا فتوی دے دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان تعلیم میں پیچھے رہ گئے اور ہندوؤں نے انگریزی پڑھ کر حکومت میں رسوخ بڑھا لیا۔اور اب ہم اس کے لئے جھگڑتے ہیں۔لیکن اگر قومی آزادی ہو تو دوسروں سے لڑنے کی ضرورت نہیں۔ہم اپنے حقوق بآسانی حاصل کر لیں گے۔لیکن جب ہم دوسروں سے پیچھے ہوں اور قومی آزادی ہم میں نہ ہو اور پھر دوسروں سے لڑیں تو یہ بے وقوفی ہوگی۔وہ تھپڑ جو ہم دوسروں کے منہ پر مارنا چاہتے ہیں ہم کو اپنے منہ پر مارنا چاہئے۔ایسی لڑائی سپورٹس مین سپرٹ کے خلاف ہے۔قومی آزادی کے لئے ضروری ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں دوسروں سے آزاد ہوں اس وقت ہم کو اقتصادی، علمی، صنعتی اور حرفی آزادی کی ضرورت ہے اور گورنمنٹ کی ملازمتوں میں بھی ہم کو ہمارا حق اور حصہ ملنا چاہئے۔ملازمتوں کے متعلق ایک اعتراض کا جواب بعض کہہ دیتے ہیں کہ ملازمتوں کے لئے کیوں لڑتے ہو؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ انگریز جو دانا اور حکمران قوم ہے وہ ملازمتوں کے لئے کیوں لڑتی ہے؟ اور پھر اگر ملازمت ایسی ہی بُری ہے تو ہندو صاحبان کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ اصل بات یہ ہے کہ گورنمنٹ کی ملازمت کا اثر قومی آزادی پر پڑتا ہے۔اس ملازمت کے ذریعہ قوم کی اقتصادی اور تعلیمی حالت پر عجیب عجیب اثر پڑتے ہیں اور ایک ہندو اگر نہر میں انجینئر ہے تو وہ اپنی قوم کو ٹھیکہ داری کے سلسلہ میں کروڑوں روپیہ کا فائدہ پہنچا سکتا ہے، اب اگر یہی حصہ ملازمت ہمارا ہو تو ہم اپنے بھائیوں کو نفع پہنچا سکتے تھے۔غرض ملازمت کا اثر بالواسطہ اور بھی بِلاواسطہ دوسری حالتوں پر پڑتا ہے۔