انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 29

۲۹ اور پوری دیانت اور بِلا طرفداری کے طے کریں۔عدالتوں میں نہ لے جاویں۔میں نے اپنی جماعت میں یہی انتظام کیا ہوا ہے۔ہماری جماعت کا روپیہ محفوظ رہتا ہے اور ہزاروں فیصلے ہوتے ہیں۔ایک قاضی کے فیصلہ کا دو یا تین قاضیوں کے مشترکہ اجلاس میں اپیل ہو جاتا ہے۔اور میرے پاس بھی اپیل آتے ہیں۔اس نظام نے میری جماعت کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ہم عدالتوں میں صرف اس وقت جاتے ہیں جب کوئی فوجداری معاملہ ہو یا کوئی ہم کو عدالت میں لے جائے۔غرض اس پنچایت سسٹم کو جاری کرو اور مسلمانوں کے باہمی تفرقے اور تنازعات جو معاملات کے متعلق ہوں دور کر دو۔(۴) مسلمان آپس میں لڑیں نہیں۔اگر دو لڑتے ہوں تو فوراً صلح کرادو۔اگر اس صلح میں دیر کی گئی تو اس سے کینہ اور انتقام کی سپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔(۵) مقامی ضروریات کی نگرانی، عام اسلامی تحریکات پر غور کر کے بے مفید سمجھو اس میں شریک ہو جاؤ۔اس ذریعہ سے آزادی رائے پیدا ہوگی۔(۶) دوسرے مذاہب کے مسائل کے متعلق سمجھوتہ کر لیں اور اختلافات کو آپس میں لے کر غرض اس قسم کی انجمن کا قائم کرنا نہایت مفید ہو گا اور ایک نمائندہ جماعت پیدا ہو سکے گی۔ایسی انجمنوں کی ضرورت اسلامی نقطۂ خیال سے ایک اور بھی ہے۔موجودہ حالات کے لحاظ سے مثلاً ورتمان کے لئے ایجی ٹیشن کرنا پڑا۔گورنمنٹ نے مجھ سے چاہا کہ میں ایجی ٹیشن نہ کروں۔لیکن میں نے گورنمنٹ کو صاف طور پر کہہ دیا کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کر دوں۔اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال ہے۔اگر ہر جگہ انجمنیں ہوتیں تو مجھے ایجی ٹیشن کی ضرورت نہ ہوتی۔اسی انجمنوں کے ذریعہ سے قومی کام بآسانی ہو سکتے ہیں۔انجمنوں کا نام ایک ہی ہو میرے خیال میں ایسی تمام انجمنوں کا ایک ہی نام ہونا چاہئے۔اس وقت ملک میں کیا ایک ایک شہر میں متعدد ناموں کی انجمنیں قائم ہیں کوئی مفيد الاسلام کوئی معین الاسلام وغیرہ۔لیکن اگر تمام انجمنوں کا ایک ہی نام ہو اور ایک ہی ان کا کام ہو تو یہ امر بھی اتحاد کے لئے مفید ہوگا۔ہر انجمن اپنے دائرہ عمل میں آزاد ہو یہاں تک کہ کسی سنٹرل کمیٹی کا بھی اثر نہ ہو جب تک سب مل کر اس کا فیصلہ نہ کر لیں۔ایک ہی نام کا ہونا سائیکالوجیکلی (PSYCHOLOGICALY) (علم النفس کے طور