انوارالعلوم (جلد 10) — Page 17
۱۷ محنت سے عارنہ کرو اخلاق کی مضبوطی کے لئے دوسری چیز جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ محنت سے عار نہ کرو۔ہم محنت سے جی چُراتے ہیں اور کام کرناعار۔سمجھتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اس کے لئے قومی حالت ذمہ دار ہے۔سو سال پہلے ہم بادشاہوں کی قوم کے لوگ تھے۔پس قومی طریق نے ایسا ہونے دیا۔ہندو بادشاہ نہ تھے اس لئے وہ محنت سے عاری نہ تھے۔وہ تنزل میں ترقی کے سامان کر رہے تھے۔ہم ترقی میں تنّزل کے سامان بنا رہے تھے۔ہماری مثال سمندر میں کودنے والے کے گلے میں پتھر باندھ دینے کی سی ہے۔مجھے ایک تاجر نے سنایا کہ انہوں نے اعلان کیا کہ گھر بیٹھے روپیہ کما سکتے ہو۔اس اشتہار کے جواب میں اس کے پاس ڈیڑھ سو مسلمانوں کے خطوط پہنچے جو بغیر کام کے روپیہ مل جانے کی درخواست کرتے تھے۔چار پانچ ہندوؤں کی درخواستوں میں سے ایک تو ایسی ہی تھی مگر باقیوں نے لکھا کہ آپ کو ایجنٹ مطلوب ہیں تو ہم ایجنسی لینے کو تیار ہیں۔اس سے عام ذہنیت کا پتہ مل جاتا ہے کہ ہم روز بروز نکمے ہوئے جاتے ہیں۔اس کو چھوڑ دو اپنے اندر اور اپنی اولاد میں کام اور محنت کی عادت ڈالو۔یہ عمل کی چیز ہے لیکچروں سے کچھ نہیں ہو گا اور نہ کمیٹیاں اس کے لئے کام آئیں گی۔خواہ خلافت کمیٹی بناؤ یا مسلم لیگ کچھ فائدہ نہیں ہو گا جب تک ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے عملی کام شروع نہ کرے گا۔(۳) استقلال مضبومی اخلاق کے لئے تیری چیز استقلال ہے۔جس کام کو استقلال سے نہ کیا جاوے وہ کامیابی تک نہیں پہنچتا۔حکومت کے زمانہ میں رنگ اور تھا۔اب تو جب تک پورے استقلال اور صبر سے کام نہ کروگے کچھ بننے کا نہیں۔قومیں دنوں اور مہینوں میں نہیں بنا کرتی ہیں، سالوں میں بھی نہیں بنتی ہیں صدیوں میں بنتی ہیں۔ہندو قوم کو جو تم دیکھتے ہو وہ آج نہیں بن گئی۔اس کی تاریخ کو غور سے پڑھو گے تو معلوم ہو گا کہ پلاسی کی جنگ کے بعد سے بننے لگی ہے۔میں اور میرے ایک ماموں صاحب ہم طب پڑھنے لگے۔پہلے ہی دن انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ کل مجھے صبح کو بہت جلد اٹھادینا کیونکہ مولوی صاحب دیر سے آیا کرتے ہیں۔میں جا کر نسخہ وغیرہ مریضوں کے لئے لکھوں گا۔یہ ایک بچپن کا واقعہ تھا جو میرے سامنے آیا۔مگر میں نے دیکھا کہ یہ مسلمانوں میں ایک مرض ہے کہ ہم ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں اور یہ بے صبری اور عدم استقلال کا نتیجہ ہے۔پس اپنے بچوں کے ذہن نشین کردو کہ وہ محنت کریں اور مستقل مزاج ہوں۔اگر ہم صحیح راستہ پر ہوں تو کچھ حرج نہیں اگر پچاس سال میں کامیاب ہوں۔