انوارالعلوم (جلد 10) — Page 511
۵۱۱ ایک ہی دفعہ اکٹھا نازل ہونے سے یہ نقص پیش آتا- (۵) اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہوتا تو ایک حصہ میں دوسرے حصہ کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا تھا- مثلاً قرآن کریم میں یہ پیشگوئی تھی کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کے نرغے سے نکال کر صحیح و سلامت لے جائیں گے- اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہو جاتا تو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لے جایا گیا اس وقت یہ نہ کہا جا سکتا کہ دیکھو اسے ہم دشمنوں کے نرغہ سے بچا کر لے آئیں ہیں- یہ اسی صورت میں کہا جا سکتا تھا کہ پہلے ایک حصہ نازل ہوتا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح و سلامت لے جانے کی پیشگوئی ہوتی- پھر جب یہ پیشگوئی پوری ہو جاتی اس وقت وہ حصہ اترتا جس میں اس کے پورا ہونے کے متعلق اشارہ ہوتا- (۶)میرے نزدیک ایک اور اہم بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے متعلق یہ اعتراض کیا جانا تھا کہ کسی اور نے بنا کر دیا ہے- چنانچہ قرآن کریم میں اس اعتراض کا ذکر بھی آتا ہے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے-وقال الذین کفروا ان ھذا الا افلک افترنہ واعانہ علیہ قوم اخرون ۸؎یعنی کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صرف ایک جھوٹ ہے جو اس نے بنا لیا ہے- اور اس کے بنانے پر ایک اور قوم نے اس کی مدد کی ہے- اگر قرآن اکٹھا ملتا تو مخالف یہ کہہ سکتے تھے کہ کسی نے بنا کر یہ کتاب دے دی ہے- اب کچھ حصہ مکہ میں نازل ہوا کچھ مدینہ میں- مکہ والے اگر کہیں کہ کوئی بنا کر دیتا ہے تو مدینہ میں کون بنا کر دیتا تھا- پھر قرآن مجلس میں بھی نازل ہوتا، اس وقت کون سکھاتا تھا- پھر قرآن سفر میں بھی نازل ہوتا- ایسا کون شخص تھا جو ہر لڑائی میں شامل ہوا، کوئی بھی نہیں- غرض قرآن سفر اور حضر میں رات اور دن میں، مکہ اور مدینہ میں، مجلس اور علیحدگی میں نازل ہوا اور اس طرح اعتراض کرنے والوں کا جواب ہو گیا کہ قرآن کوئی اور انسان بنا کر آپ کو نہیں دیتا تھا- ورنہ اگر اکٹھی کتاب نازل ہوتی تو کہا جاتا کہ کوئی شخص کتاب بنا کر دے گیا- جسے سنا دیا جاتا ہے مگر اب جب کہ موقع اور محل کے مطابق آیات اترتی رہیں تو کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ہر موقع پر کوئی بنا کر دے دیتا ہے- پس قرآن کا ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اترنا ثبوت ہے لنثبت بہ فوادک کا- جمع قرآن پر اعتراضات ایک اعتراض جمع قرآن کے متعلق کیا جاتا ہے- وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن اپنی اصلی صورت میں محفوظ نہیں وہ اپنے