انوارالعلوم (جلد 10) — Page 446
۴۴۶ ترقی کرتی ہے- کیونکہ انتخابی نقطہ نگاہ ایک غیر حقیقی سوال ہوتا ہے-(یعنی مذہب کا اختلاف) ۲- مخلوط انتخاب کے ساتھ اگر اکثریت کی نشستوں کو محفوظ کر دیا جائے تو اتفاق کا پیدا ہونا مشکل ہے کیونکہ اکثریت کو یقین ہو جائے گا کہ وہ اقلیت کے ووٹوں کی محتاج نہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرے گی- ۳- حکومت مسؤلی (RESPONSIBLEGOVERNMENT)) اسے کہتے ہیں جس میں حکومت تنفیذی ایگزیکٹو (EXECUTIVE) مجلس واضع قوانین کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے- اور مجلس واضع قوانین جماعت منتخبین (ELECTORATE) کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے اگر حکومت تنفیذی کے کل ممبر جن کی پشت پر اکثرت ہو محفوظ حقوق کی وجہ سے باختیار ہوئے ہوں- نہ کہ منتخبین کے بے قید انتخاب کے ماتحت- تو اس صورت میں نہ تو جمہور کی نیابت حاصل ہوئی اور نہ کوئی مسؤل حکومت قائم ہوئی- ۴- پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اس طرح تقسیم شدہ ہے کہ محفوظ نشستوں کی انہیں ضرورت نہیں- وہ اپنی تعداد کے مطابق اپنے حقوق اچھی طرح حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ- اس کے ساتھ ہی میں اس دلیل کو بھی شامل کر لیتا ہوں جو ہمارے صوبہ کے ایک قابلقدر ممبر کونسل نے دی ہے اور وہ یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخاب میں باوجود اس کے کہ مسلمان ووٹر کم تھے وہ بہت زیادہ ممبریاں لے گئے ہیں- جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو آزاد مقابلہ میں زیادہ فائدہ رہے گا- نہرو کمیٹی کی پہلی دلیل کا ردّ کمیٹی کی پہلی دلیل یہ ہے کہ چونکہ محفوظ نشستوں میں انتخابی نقطہ ایک غیر حقیقی سوال یعنی مذہب ہوتا ہے، اس لئے فرقہ وارانہ منافرت بڑھتی ہے میں اس دلیل کے سمجھنے سے قاصر ہوں- میں نہیں سمجھ سکتا کہ جس جگہ نشست ایک خاص قوم کے لئے محفوظ ہوگی، وہاں انتخاب کا مرکز قومی سوال کیونکر ہوگا- کیونکہ اس صورت میں تو قومی سوال پہلے ہی حل ہو چکا ہوگا- قانون فیصلہ کر چکا ہوگا کہ فلاں جگہ سے مسلمان ممبر ہی کھڑا ہو سکتا ہے- پس یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ممبر ایسے حلقہ سے کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مجھے ووٹ دو کیونکہ میں مسلمان ہوں- یہ سوال تو غیر محفوظ نشستوں میں پیدا ہو سکتا ہے- کیونکہ ایسے حلقوں میں ممکن ہے کہ ایک ہندو امیدوار ہو اور ایک مسلمان-