انوارالعلوم (جلد 10) — Page 445
۴۴۵ کے اپنے آثار ظاہر نہیں کرتی اور نہرو سکیم کے ماتحت پنجاب اور بنگال میں ایسے مواقع آ سکتے ہیں کہ اسلامی عنصر حکومت سے نکل ہی جائے- چھٹی دلیل پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کے حق کے بقدر آبادی محفوظ رہنے کے حق میں یہ بھی ایک دلیل ہے کہ ہر قوم کی ترقی کے لئے اس کے افراد کا تمام کاموں سے واقف ہونا بھی ضروری ہے یہ ظاہر ہے کہ ہندو صوبوں میں مسلمانوں کی اعلیٰ سیاسی عہدوں کے لئے تربیت نہیں ہو سکتی- ان کے لئے پنجاب اور بنگال ہی رہ جائیں گے کہ یہی دو اہم صوبے مسلمانوں کی اکثریت کے ہیں- اگر ان میں بھی ایسی حکومت آتی رہی جو خالص ہندو ہو- یا اس میں مسلمانوں کا عنصر بہت کم ہو تو مسلمان کیلئے ان اعلیٰ کاموں کے لئے تربیت کا دروازہ بالکل ہی بند ہو جائے گا- جس سے انہیں سخت نقصان پہنچنے کا احتمال ہے صوبہ سرحدی اور سندھ اور بلوچستان کو پیش نہیں کیا جا سکتا- کیونکہ بلوچستان کی آبادی تو سوا چار لاکھ ہے اور گویا ایک میونسپل کمیٹی کے برابر کی حیثیت ہے- صوبہ سرحدی اور سندھ بھی آبادی کے لحاظ سے اور مالی طورپر نہایت کمزور ہیں- پس ان صوبوں میں اس پیمانہ پر حکومت کو وسعت حاصل نہ ہوگی- جو بڑے صوبوں میں اور مختلف لیاقتوں کے اپنی قدر کے مطابق نشوونما پانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کو کم سے کم اس قدر عرصہ تک کہ وہ اپنی گذشتہ کمزوری پوری کر لیں- متواترتربیت کا موقع دیا جائے- اور وہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ پنجاب اور بنگال میں ان کے حقوق محفوظ ہوں- اگر یہ انتظام نہ ہوا تو مسلمان کبھی بھی حکومت کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہ ہونگے اور ملک کے لئے قوت بننے کی بجائے اس پر ایک بار بن جائیں گے- محفوظ حقوق کے خلاف نہرو رپورٹ کے دلائل ان دلائل کے بیان کرنے کے بعد جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق پنجاب اور بنگال میں بھی ویسے ہی محفوظ ہونے چاہئیں جیسے کہ ان صوبوں میں جن میں مسلمان بہت کم ہیں- ہندوؤں کے حقوق بوجہ ان کی عظیم الشان اکثریت کے محفوظ ہونگے- اب میں نہرو رپورٹ کے ان دلائل کو توڑتا ہوں جو محفوظ حقوق کے خلاف دئے گئے ہیں اور وہ یہ ہیں- ۱- میجارٹی کے حقوق کی حفاظت اور نشستوں کے محفوظ کر دینے سے فرقہ وارانہ منافرت