انوارالعلوم (جلد 10) — Page 440
۴۴۰ جا سکتی ہے تو یقیناً پنجاب اور بنگال میں بھی برداشت کی جا سکتی ہے- مسلمانوں کا مطالبہ سمجھنے میں غلطی اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کے مطالبہ کے سمجھنے میں نہرو کمیٹی نے ایک اور سخت غلطی کھائی ہے اور وہ فرقہ وارانہ جذبات میں خود ایسے مبتلا رہے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے مطالبہ کو بھی اسی رنگ میں دیکھا ہے وہ غلطی یہ ہے کہ نہرو کمیٹی نے یہ سمجھا ہے کہ مسلمانوں کا گویا یہ مطالبہ ہے کہ وہ اکیلے ہی پنجاب اور بنگال میں حکومت کریں- یہ مسلمانوں کا مطالبہ نہیں- ان کا مطالبہ یہ ہے کہ جس طرح ہندوستان کے بعض دوسرے صوبوں میں جہاں ہندو زیادہ ہیں آئینی مجالس میں نیابت لازماً ہندوؤں کی زیادہ رہے گی اس طرح پنجاب اور بنگال میں جہاں مسلمان زیادہ ہیں، نیابت کی زیادتی مسلمانوں کو حاصل ہونی چاہئے- اور چونکہ ان علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت اس قدر نہیں کہ وہ بغیر کسی خاص قانون کے اپنی اکثریت کو قائم رکھ سکیں، اس لئے یہ قانون نافذ کر دیا جائے کہ یہ حق ان کا دوسرے جائز یا ناجائز ذرائع سے توڑ نہیں دیا جائے گا- ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس میں تسلط کا سوال نہیں ہے- تسلط کا سوال تب ہوتا اگر مسلمان یہ مطالبہ کرتے کہ ہندواکثریت والے صوبوں میں ہندوؤں کی حکومت ہو- اور مسلماناکثریت والے صوبوں میں مسلمانوں کی حکومت ہو- لیکن ان کا مطالبہ تو یہ ہے کہ ہندو اکثریت والے صوبوں میں ہندوؤں کی نیابت جس طرح ہمیشہ زیادہ رہے گی- اسی طرح مسلمان اکثریت والے صوبوں میں مسلمانوں کی نیابت زیادہ رہے- اور نیابت کی زیادتی کے یہ معنی نہیں کہ حکومت بھی خالص طور پر ان کے ہاتھ میں رہے- اسی وقت دیکھ لو کہ جداگانہ انتخاب کی موجودگی میں جس کے ذمہ دنیا کے سب عیب لگائے جاتے ہیں، پنجاب میں خالص اسلامی پارٹی کوئی نہیں ہے- ایک زمیندار پارٹی ہے جس میں مسلمان اور ہندو شامل ہیں- اور ایک خلافتی پارٹی ہے جو سوراجیوں سے ملکر کام کرتی ہے- پس پنجاب اور بنگال میں صرف چھ فیصدی مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر ہندو باسانی حکومت میں ایک بڑا حصہ لے سکتے ہیں- یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمان اور ہندو آپس میں ملیں گے کیونکر- جب کہ مذہبی نیابت کو جاری رکھا جائے گا، کیونکر مذہب سیاست کا نام نہیں- مذہب کا تعلق تمدن اور تہذیب سے ہے- سیاسی معاملات میں مختلف مذاہب کے لوگ خود مل جاتے ہیں- اگر اس وقت ایسے شدید اختلاف کے باوجود مل