انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 428

۴۲۸ کراچی ترقی کر سکے تا کہ اس کا فائدہ ضائع نہ جائے- غرض بمبئی نے بلاواسطہ اگر سندھ پر ایک روپیہ خرچ کیا ہے تو بالواسطہ اس نے دو کمائے ہیں اور تب ہی اس کی وابستگی اسے اس قدر مرغوب ہے- پس یہ دونوں اعتراض باطل ہیں اور کسی کا حق سندھ کے آزاد ہونے میں تلف نہیں ہوتا- صوبہ سرحدی اور سندھ کو آزادی دینا سیاستا ًضروری ہے اب رہا سیاست کا سوال سو سیاستا ان صوبوں کے آزاد ہونے میں بڑا نفع ہے اور نہ ہونے میں نقصان- اگر سندھ کو نیابتی حکومت دے کر علیحدہ صوبہ نہ بنایا گیا تو جیسا کہ خود نہرو رپورٹ نے تسلیم کیا ہے، سندھ میں سخت ایجیٹیشن (AGITATIONS) ہوگا اور ملکی طاقت ضائع ہو گی- ۴۸؎ صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو اگر نیابتی حکومت نہ دی گئی تو ظاہر ہے کہ سرحدی صوبے ہونے کی وجہ سے وہ سرحد پار کی حکومتوں کی سازش کی آماجگاہ بن سکیں گے- بہترین سیاسی پالیسی یہی ہوتی ہے کہ سرحدی صوبوں کو خوش رکھا جائے- ورنہ ان میں ہمسایہ حکومتیں ریشہ دوانیاں شروع کر دیتی ہیں اور خود ملک کا ایک حصہ اپنی حکومت کے خلاف کھڑا ہو کر اسے کمزور کر دیتا ہے- یہ ظاہر امر ہے کہ اگر سرحدی صوبوں کو دوسرے صوبوں کے سے حقوق نہ ملے تو وہ ہندوستان سے ملحق رہنے پر رضا مند نہ ہوں گے- اور ان کے دل میں خواہش پیدا ہوگی کہ وہ کسی دوسری مملکت سے مل کر اپنی آزادی حاصل کریں- پس صوبہ سرحدی اور بلوچستان کو آزادی نہ دینا بدترین سیاست ہوگی- اور ہندوستان کو نہ صرف خانہ جنگی میں مبتلا کر دے گی بلکہ غیر حکومتوں کی چھاؤنیاں اس ملک میں قائم کر دے گی- نہرو رپورٹ لکھنے والوں کے دل میں تعصب میں سمجھتا ہوں کہ میں کافی بحث کر چکا ہوں کہ تین نئے اسلامی صوبوں کے قیام کے متعلق مسلمانوں کے مطالبات بالکل درست ہیں- اور ان کے پورا کرنے میں کسی کی حق تلفی نہیں- اور سیاستا ان کا قائم کرنا ملک کے لئے نہایت ضروری ہے- اور ایسے اہم مطالبہ کا پورا نہ کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ نہرو رپورٹ کے لکھنے والوں کے دل تعصب سے خالی نہ تھے- اور یہ ظاہر ہے کہ جس وقت تک کثرت کے دل سے تعصب نہ نکلے گا، اقلیت بھی اس کی طرف سے مطمئن نہیں ہو سکتی-