انوارالعلوم (جلد 10) — Page 371
۳۷۱ ‘’مسلمان اس حق کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے- جب تک کہ سندھ کو ایک مستقل اور خودمختار صوبہ نہ بنا دیا جائے اور صوبہ سرحدی اور بلوچستان میں اصلاحات نہ جاری کر دی جائیں’‘- لیکن نہرو کمیٹی ان تین امور میں سے صرف ایک کو تسلیم کرتی ہے- یعنی صوبہ سرحدی کو نیابتی حقوق دینے کی تائید کرتی ہے- سندھ کے متعلق وہ شرطیں لگاتی ہے کہ فلاں فلاں شرط کے ماتحت اسے آزاد کیا جا سکتا ہے- اور بلوچستان کا ذکر وہ بالکل مشتبہ الفاظ میں کرتی ہے- اس کے صفحہ۵۵ پر یہ الفاظ درج ہیں-: ‘’جن صوبوں کی غیر مسلم اقلیتوں کے بارے میں بحث کی ضرورت ہے وہ صوبہسرحدی اور بلوچستان ہیں’‘- اس فقرہ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر اس کے مرتبین کے ذہن میں تھا کہ بلوچستان میں ہندوؤں کے حقوق کا سوال پیدا ہوگا- مگر صفحہ ۱۲۴ پر قانون اساسی کے عنوان ثانوی فرقہ وارانہ نمائندگی کے نیچے ساتویں مادہ میں لکھا ہے-: ‘’صوبہ سرحدی میں اور تمام نئے بنائے ہوئے صوبوں میں جو پرانے صوبوں سے کاٹ کر بنائے جائیں گے، وہی طریق حکومت ہوگا جو دوسرے ہندوستان کے صوبوں میں رائج ہوگا’‘- اس حوالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قانون اساسی میں بلوچستان کے ذکر کو چھوڑ دیا گیا ہے- ممکن ہے کہ یہ غلطی سے ہو- مگر بہرحال معاملہ مشتبہ ہے- اور ہمیں اس وقت تک یہی کہنا چاہئے کہ نہرو کمیٹی نے ان شرطوں کو پورا نہیں کیا- جن پر کلکتہ لیگ جداگانہ انتخاب کے حق کو چھوڑنے کے لئے تیار تھی- اور جن کے باوجود بھی لاہور مسلم لیگ جداگانہ انتخاب کو کچھ عرصہ کیلئے چھوڑنے پر تیار نہ تھی- لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا کلکتہ لیگ کے ریزولیوشن کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ لیگ صرف یہ نہیں کہتی کہ ہندو صاحبان ان شرطوں کو پورا کرنے پر راضی ہو جائیں تو جداگانہ انتخاب کو اڑا دیا جائے گا- بلکہ وہ دو احتیاطیں اور کر لیتی ہے- وہ یہ بھی شرط لگاتی ہے کہ ان پر عملدرآمد بھی ہو جائے- اور دوسری شرط یہ لگاتی ہے کہ اس عملدرآمد پر مسلمان اپنی تسلی بھی کر لیں کہ ان کے منشاء کے مطابق کام ہو گیا ہے- کیونکہ وہ کہتی ہے-: