انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 357

۳۵۷ بھی مسترد نہیں کیا گیا- پس جب اس ہدایت کو مسترد نہیں کیا گیا تو بمبئی کانفرنس کی تجویز کے ماتحت جو سب کمیٹی بنی تھی، اس میں مسلم لیگ کے نمائندے اسی ہدایت کے ماتحت ممبر ہوئے تھے نہ کہ اس سے آزاد ہو کر- اور وہ ہدایت یہ تھی کہ کلکتہ لیگ کے ریزولیوشن کو کلی طور پر تسلیم کئے بغیر مسلم لیگ قانون اساسی پر غور کرنے کیلئے تیار نہیں- بمبئی کانفرنس کے دوران میں یا اس کے بعد کوئی جلسہ لیگ کا ایسا نہیں ہوا جس میں اس شرط کو توڑ دیا گیا ہو- پھر کس طرح جائز ہو سکتا تھا کہ لیگ کے نمائندے اپنے اختیار سے باہر جا کر کوئی کام کریں- اب سوال یہ ہے کہ کیا نہرو کمیٹی نے کلکتہ ریزولیوشن کو کلی طور پر تسلیم کیا- وہ خود اقرار کرتی ہے کہ نہیں- ۳؎ مسلم نمائندے تسلیم کرتے ہیں کہ نہیں- اور اگر نہرو کمیٹی نے کلکتہ ریزولیوشن کو تسلیم نہیں کیا تو لیگ کے فیصلہ کے مطابق اس کے نمائندوں کو اس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اجازت ہی کب ہو سکتی تھی- اور اگر وہ باوجود کونسل کی ہدایت کے اس کمیٹی کے اس فیصلہ کے بعد کہ کلکتہ کی تجویز میں تبدیلی کر دی جائے- اس کمیٹی کے ساتھ بیٹھتے رہے ہیں تو یقیناً وہ لیگ کے نمائندے نہ تھے- وہ لیگ کونسل کے فیصلہ کے مطابق اسی وقت سے لیگ کی نمائندگی سے علیحدہ ہو گئے تھے جب سے انہوں نے کلکتہ ریزولیوشن کے خلاف فیصلہ کو سن کر کمیٹی سے قطع تعلق نہیں کیا- اور اس صورت میں یہ بات خوب اچھی طرح ظاہر ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا وہ حصہ جو مسٹر جناح کی صدارت میں کام کرتا ہے، اس کی نیابت بھی اس کمیٹی کو حاصل نہ تھی- اور اس طرح یہ کمیٹی مسلمانوں کے نمائندوں سے بالکل خالی تھی- اور یہی وجہ ہے کہ مولانا شوکت علی مسٹر محمد یعقوب حسرت موہانی مولوی شفیع داؤدی اور دوسرے مسلم لیگ اور خلافت کے سرکردہ ممبر نہرو کمیٹی کی مخالفت کر رہے ہیں- مجھے اس تفصیل سے اس مسئلہ پر اس لئے لکھنا پڑا ہے کہ میں نہایت ہی تکلیف سے دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان کے کروڑوں لوگوں کو گائے اور بیل کی طرح ہانکا جا رہا ہے- سو دو سو آدمی ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں- اور اپنے فیصلہ کو بڑے موٹے لفظوں میں ہندوستان کے لیڈروں کا فیصلہ قرار دے کر شائع کر دیتے ہیں- کوئی نہیں پوچھتا کہ لیڈر ان لوگوں کو کس نے بنایا ہے- دنیا کے کسی اور ملک میں اس سے زیادہ ذلت اور حقارت جمہور کی نہیں کی جاتی- فرض کر لیا جاتا ہے کہ باقی سب ملک چند آدمیوں کی جائیداد ہے- وہ اس سے جس طرح چاہئیں معاملہ کریں- میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے پچھلے سال یونیٹی کانفرنس