انوارالعلوم (جلد 10) — Page 342
۳۴۲ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلیم حاصل کی ہے، وہ اس امت کے معلم بنیں گے اور یوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی سے یہ امت نکل جائے گی’‘-۱۶؎ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ اول مولوی صاحب کے نزدیک عام مسلمانوں کا عقیدہ ختم نبوت کے عقیدہ کے مقابل پر ہے- یعنی متضاد اور مخالف ہے- دوم- مولوی صاحب کے نزدیک یہ عقیدہ کہ کوئی پرانا نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ کوئی نیا نبی آئے گا، ان میں کچھ فرق نہیں- یہ دونوں عقیدے ایک ہی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کو رد کرنے والے ہیں- سوم- مسلمانوں کے عقیدہ نزول مسیح کی رو سے امت محمدیہ امت محمدیہ نہ رہے گی- یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ختم ہو جائے گی- اب اس عقیدہ کے بعد مولوی صاحب کا ۲۷-جولائی ۱۹۲۸ء کے پیغام صلح میں یہ فرمانا کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، صرف ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لئے ایک چال اور خلاف ضمیر عقیدہ کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے کیا یہ غضب نہیں کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تو مولوی صاحب کے نزدیک تمام مسلمان ختم نبوت کے منکر تھے اور ان کے عقائد امت محمدیہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے نکال رہے تھے- لیکن ۱۷-جون کے جلسہ کی تحریک کا ہونا تھا کہ مولوی صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور انہیں معلوم ہو گیا کہ سب مسلمان تو ختم نبوت کے قائل ہیں اور یہ مبائع احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں- ان کے ساتھ مل کر کہیں دوسروں کے بھی عقیدے خراب نہ ہو جائیں- کیا یہ تغیر غیر معمولی نہیں ہے کیا یہ تبدیلی موجب حیرت نہیں ہے؟ کیا اس کی وجہ صرف یہی نہیں ہے کہ مولوی صاحب میرے بغض کی وجہ سے اس تحریک کو ناکام بنانا چاہتے تھے- اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر جو ان کے دل میں یقیناً ہوگی، ایک ساعت کے لئے میرا بغض غالب آ گیا- انا للہ وانا الیہ راجعون- میں تو اب بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ انہیں اس امر سے محفوظ رکھے کہ ان کا دل ہمیشہ کے لئے ان کے جرم کی سزا میں محبت رسول سے محروم رہ جائے- ٍ شاید مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ہے کہ مسیح کے نزول کو ماننا ختم نبوت کے خلاف ہے اور گو میں نے بھی اس عقیدہ کی تصدیق کی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ فی الواقعہ وہ لوگ ختم ِنبوت کے منکر ہیں بلکہ صرف یہ