انوارالعلوم (جلد 10) — Page 338
۳۳۰ ہیں’‘-۱۱؎ یہ حوالہ جات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ہیں- اور انہیں مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب ‘’النبوہ فی الاسلام’‘ میں نقل کیا ہے- اور میں نے اس لئے کہ جو چاہے جہاں سے دیکھ لے دونوں کتب کے صفحات کے حوالے دے دیئے ہیں- یعنی حضرت مسیحموعود علیہ السلام کی کتب کے بھی اور مولوی صاحب کی کتاب کے بھی ان حوالہ جات سے مندرجہ ذیل مطالب بوضاحت ثابت ہوتے ہیں- اول-: مسیح ناصری کی آمد پر ایمان لانا ختم نبوت کے منافی ہے- دوم-: جو شخص مسیح ناصری کے نزول پر ایمان لاتا ہے وہ خاتم النبین کا کافر ہے اور ختم نبوت کی تکذیب کرتا ہے- سوم-: اگر کوئی شخص یہ عقیدہ بھی رکھے کہ حضرت مسیح ناصری نبی نہیں بلکہ امتی ہو کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے تب بھی وہ ختم نبوت کا انکار ہی کرتا ہے- چہارم-: حضرت مسیح کی دوبارہ آمد کے عقیدہ رکھنے والے کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتمالنبین نہیں ہیں بلکہ مسیح ناصری ہے- یہ چار نتائج جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالوں سے نکلتے ہیں صاف بتاتے ہیں کہ آپ کے عقیدہ کی رو سے وہ تمام لوگ جو حضرت مسیح ناصری کی دوبارہ آمد کے قائل ہیں خواہ انہیں نبی بنا کر اتارتے ہوں خواہ امتی بنا کر بہرحال ختم نبوت کے منکر اور خاتم الانبیاء کے کافر ہیں- اور چونکہ مسلمانوں کا بیشتر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان میں سے ننانوے فیصدی اسی عقیدہ کے قائل ہیں- پس اوپر کے حوالہ جات کی رو سے جو مولوی محمد علی صاحب نے اپنی کتاب ‘’النبوہ فی الاسلام’‘ میں نقل کئے ہیں یہ ثابت ہوتا ہے کہ تمام غیر احمدی فرقہجات بہحیثیت فرقہ کے ختم نبوت کے منکر ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے- اور جب مولوی صاحب کے عقیدہ کی رو سے تمام غیر احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین نہیں مانتے تو پھر وہ بتائیں کہ ان کا یہ لکھنا کہ-: ‘’جب میاں صاحب اور ان کے مرید آنحضرت صلعم پر نبوت کو ختم نہیں مانتے تو یوم خاتم النبین سے لوگوں کو دھوکا ہوگا یا نہیں- کیونکہ عام مسلمان خاتمالنبین کے معنی یہی جانتے ہیں کہ نبوت آنحضرت صلعم پر ختم ہو گئی اور آپ کے