انوارالعلوم (جلد 10) — Page 315
۳۱۵ کسی قسم کی قربانی سے نہ گھبراؤ - اے عزیزو! اب ہمارا نیا مالی سال شروع ہوا ہے اور جیسا کہ میں پہلے اعلان کر چکا ہوں جب تک ہمارے خزانہ کی مالی حالت درست نہ ہو جائے، اس وقت تک ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ علاوہ معمولی چندوں کے ہر سال ایک چنده خاص بھی دیا کریں تا کہ معمولی چندوں کی کمی پوری ہو سکے اور سلسلہ کے کاموں میں کسی قسم کی رُکاوٹ نہ ہو۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ اس سال بھی حسب معمول تمام دوست اپنی آمد میں سے ایک معیّن رقم چندہ خاص میں ادا کریں اور چاہئے کہ وہ رقم ستمبر کے آخر تک پوری کی پوری وصول ہو جائے اور یہ بھی کوشش رہے کہ اس کا اثر چنده عام پر ہرگز نہ پڑے۔بلکہ چندہ عام پچھلے سال سے بھی زیادہ ہو کیونکہ مومن کا قدم ہر سال آگے ہی آگے پڑ تا ہے اور وہ ایک جگہ پر ٹھہر نا پسند نہیں کرتا۔میں یہ بھی اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ اس سال چنده خاص کی شرح کم کر دی گئی ہے۔یعنی پچھلے سال تو تیس سے چالیس فی صدی اس کی شرح تھی لیکن چونکہ بہت سا مالی بوجھ دور ہو گیا ہے ، اس سال اس چندہ کی شرح پچیس سے تیس فیصدی تک مقرر کی گئی ہے۔یعنی جو لوگ مالی تنگی میں ہوں، وہ تو پچیس فیصدی ادا کریں اور جنہیں اللہ تعالیٰ توفیق دے یا زیادہ اخلاص دے، وہ تیس فیصدی اپنی ایک ماہ کی آمد میں سے ادا کریں۔ہاں جیسا کہ قاعدہ ہے ، وہ اس رقم کو بجائے ایک ماہ میں ادا کرنے کے تین ماہ میں ادا کر سکتے ہیں۔زمینداروں کے لئے چونکہ ان کی ماہوار آمدن نہیں ہوتی، علاوه چنده عام کے چنده خاص کی شرح حسب ذیل مقرر کی گئی ہے۔یعنی علاوہ اڑھائی سیرفی من پیداوار پر چندہ عام ادا کرنے کے ایک سیرفی من چنده خاص ادا کیا جائے یا جو زمیندار اپنا چندہ عام با قاعدہ شرح کے مطابق نقدی کی صورت میں دیتے ہیں، وہ اپنے سالانہ چندہ کا ایک تہائی یعنی تیسرا حصہ بطور چندہ خاص زائد ادا کریں۔مثلاً اگر ایک زمیندار سالانہ ۱۵۰ روپیہ چندہ عام ادا کر تا ہو تو وہ علاوہ چندہ عام کے پچاس روپیہ چنده خاص ادا کرے۔پس زمینداروں کے لئے چندہ خاص کی شرح فی من ایک سیر ہر فصل کی ہر قسم کی پیداوار پر ہے یا جس قدر چندہ وہ ہر فصل پر نقد ادا کرتے ہوں ، اس رقم کی ایک تہائی یعنی تیسرا