انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 314

۳۱۴ دیں گے مگر بہت سے ہیں جو بجائے آپ کا ہاتھ بٹانے کے آپ کی پیٹھ میں خنجر مارنے کے لئے تیار ہوں گے۔پس آپ اگر کیا چیز پر بھروسہ کر سکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مددہے اور اس کے فعل نے بار بار آپ پر ثابت کر دیا ہے کہ اس کی مدد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہی ہے۔پچھلے سال آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ کس طرح کی مالی تنگی تھی لیکن بغیر اس کے کہ بیرونی مدد ہمیں ملتی آپ لوگوں کو خدا تعالی نے ایسی توفیق دی کہ نہ صرف پچھلا قرضہ ہی بہت سا اُترگياء بلکہ اگلے سال کے بجٹ کو پورا کرنے کے لئے بھی کافی رقم جمع ہو گئی۔وذلك فضل الله۔دشمن اعتراض کرتا ہے کہ ہم غیر احمدیوں سے اس لئے روپیہ وصول کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری مالی حالت خراب ہو رہی ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہم نے اپنے کاموں کے لئے نہ پہلے چند ہ لیا ہے نہ آئند ہ چندہ لینے کے لئے تیار ہیں۔ہاں جو خود دے دے ،اسے ہم ردّ نہیں کرتے۔پس دوسروں کے چندہ کے ہم اپنی جماعت کے کاموں کے لئے محتاج نہیں۔وہ تحریک تو ایسے کاموں کے لئے ہے جو تمام مسلمان فرقوں میں مشترک ہے۔ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے وہ اخلاص دیا ہے کہ وہ اپنے کاموں کے لئے کسی سے چندہ نہیں مانگتی۔اس کا دل نور ِ ایمان سے پُر ہے اور اس کا سینہ محبت الہٰی سے بھرپور۔ہماری جماعت میں داخل ہونا کوئی معمولی کام نہیں۔وہ ایک موت ہے کہ جس سے بڑھ کر اس زمانہ میں کوئی اور موت نہیں۔ہر ایک شخص جو اس سلسلہ میں نیچے دل سے داخل ہوتا ہے ، وہ یہی سمجھ کر داخل ہو تا ہے کہ میں خدا کے لئے اور اس کے دین کے لئے ہر ایک موت اور ہر ایک قربانی اور ہر ایک ذلّت کو قبول کروں گا۔اور اس ارادہ اور اس نیت سے داخل ہونے والے انسان مشکلات سے نہیں گھبرایا کرتے۔ان کا بھروسہ خدا پر ہوتا ہے اور خدا تعالی اپنے پر اعتماد کرنے والوں کو اور اپنی محبت میں گداز لوگوں کو مصیبت کے وقت میں چھوڑا نہیں کرتا۔بلکہ وہ ان کا ساتھ دیتا ہے اور ان کی پشت پناہ بن جاتا ہے اور جب دنیا ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے تو وہ اپنی محبت کا ہاتھ ان پر بڑھاتا ہے اور ان کے آنسوؤں کو اپنے شفقت بھرے ہاتھوں سے پونچھتا ہے۔وہ قدوس ہے اور کبھی بے وفائی نہیں کرتا۔وہ قادر ہے اور کبھی وقت پر دغا نہیں دیتا۔پس تمہیں مبارک ہو کہ تم نے اس کا دامن پکڑا ہے جو تمہیں دونوں جہان میں کامیاب کرے گا اور کبھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔ہاں شرط یہ ہے کہ تم بھی اپنے د عویٰ میں سچے ہو اور استقلال سے اس کا دامن پکڑ لو اور