انوارالعلوم (جلد 10) — Page 285
۲۸۵ اور بات ہے کہ کس طرح سے خدا تعالیٰ ہدایت دے مگر دے گا ضرور- اور یہ کہنا کہ سکھ یا ہندو یا عیسائی کی دعا قبول نہیں ہوتی- بالکل غلط ہے- طلب ہدایت کے متعلق ہر اک کی دعا قبول ہوتی ہے اور اگر کوئی سچے دل سے جستجو کرے تو ضرور اسے سیدھا رستہ دکھایا جائے گا- اور جب اس کی دعا اپنی حد کو پہنچ جائے گی تو خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا جن کی مدد سے وہ کشاں کشاں اس راستہ پر پڑ جائیں گے- جس پر چل کر خدا تعالیٰ کا دیدار حاصل ہوتا ہے- مساوات چھٹا احسان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہے کہ آپ نے قومی امتیازات کو مٹا کر انسانی مساوات کو قائم کیا ہے- آپ سے پہلے ہر قوم اپنے آپ کو اعلیٰ قرار دیتی تھی- عرب تحقیر کے طور پر کہتے کہ عجمی جاہل ہیں- ان کی ہمارے مقابلہ میں کیا حقیقت ہے- عجمی عربوں کے متعلق کہتے تھے کہ عرب وحشی ہیں- رومی کہتے تھے کہ ہم سب سے اعلیٰ ہیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیس للعربی فضل علی عجمی الابالتقوی ۲۵؎اے عربو! یاد رکھو- تم کو دوسروں پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی- تم بھی ویسے ہی ہو جیسے اور ہیں- سوائے اس صورت کے کہ تم خدا کے خوف میں دوسروں سے بڑھ جاؤ اور یہ فضیلت نسل کی وجہ سے نہ ہوگی بلکہ تقویٰ کی وجہ سے- اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غیر قوم کے لوگوں کو یہ تعلیم دیتے کہ تمہیں دوسروں پر کوئی فضیلت نہیں ہے تو کہا جا سکتا کہ اپنی قوم کو بڑھانے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں- مثلاً اگر کوئی شخص چوہڑوں اور چماروں میں سے کھڑا ہو کر کہے- کہ اے پنڈتو اور برہمنو! تم کو کسی اور قوم پر فضیلت حاصل نہیں ہے- تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تعلیم مساوات قائم کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنی عزت قائم کرنے کے لئے ہے- لیکن اگر کوئی سید کھڑا ہو کر سیدوں کو کہے کہ تمہیں دوسروں پر انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فضیلت نہیں ہے تو کہا جائے گا کہ وہ اپنی قوم کو ایک سچی تعلیم دے کر ان پر احسان کر رہا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو دیکھو آپ نے ایسے ہی الفاظ میں نصیحت کی ہے جو آپ کی قوم کے درجہ کو گراتے ہیں نہ یہ کہ اوروں کے درجہ کو گرا کر اپنی قوم کا درجہ بڑھاتے ہیں- پس آپ کی تعلیم حقیقی مساوات کی تعلیم تھی- آپ یہ نہیں فرماتے کہ اے عجمیو! تم رومیوں یا عربوں سے بڑے نہیں ہو- بلکہ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ تم دوسروں پر فضیلت کا دعویٰ نہ کیا کرو پس آپ کی تعلیم مساوات کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ تھی اور بنی نوع انسان پر ایک عظیم الشان احسان تھا-