انوارالعلوم (جلد 10) — Page 281
۲۸۱ سے نکل کر واقفوں اور ان سے بھی گذر کر ناواقفوں تک پھیل گئے ہیں- پھر یہ کہ آپ کے احسانات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کسی نفع کی آپ کو امید نہ تھی بلکہ وہ ایسے ہی طبعی تھے- جیسے کہ ماں اپنے بچہ سے حسن سلوک کرتی ہے اور پھر صرف انتہائی جوش کے ماتحت اور عام احسان ہی آپ نے نہیں کئے بلکہ ساتھ اس کے یہ بات تھی کہ آپ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر وہ احسانات کئے ہیں اور ان کے بدلہ میں خطرناک سے خطرناک مشکلات میں اپنی جان کو ڈالا ہے- پس احسان کی تمام اقسام میں سے بہتر سے بہتر اقسام کا ظہور آپ سے ہوا ہے اور ایسے رنگ میں ہوا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی اب میں آپ کے احسانات کی چند مثالیں بیان کرتا ہوں تا معلوم ہو سکے کہ آپ کے احسان کس اعلیٰ شان کے تھے- شرک کو دور کرنا پہلا احسان آپ کا شرک کو دور کرنا ہے- آپ نے ایک خدا کی پرستش دنیا میں قائم کی- اب تو سب دنیا اس بات کی قائل ہو رہی ہے کہ شرک برا ہے- مگر جب آپ مبعوث ہوئے تھے اس وقت قائل نہ تھی- آپ نے سارے ملک کو اپنا دشمن بنا کر اور سخت سے سخت تکالیف برداشت کر کے اس صداقت کو قائم کیا اور نہ صرف اپنے زمانہ کے لوگوں کو بلکہ بعد میں آنے والے لوگوں کو بھی اپنا ممنون احسان کیا- یہ احسان صرف مذہبی پہلو سے ہی نہیں ہے بلکہ اس کا ایک دنیوی پہلو بھی ہے اور یہ احسان دنیا کی دنیوی ترقی میں بھی ممد ہے- مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ اگر لوگ ان چیزوں کو جنہیں خدا تعالیٰ نے ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے خدا سمجھنے لگیں تو کبھی بھی ان کے طبعی فوائد پر غور نہیں کریں گے اور ان کو استعمال کرنے کی کوشش نہیں کریں گے- لیکن جب لوگ ایک خدا کے قائل ہونگے اور سب مخلوق کو انسان کے فائدہ کے لئے قرار دیں گے تو پھر ان کے فوائد کو حاصل کرنے اور ان کو اپنی خدمت میں لگانے کی بھی کوشش کریں گے اور اس طرح سائنس اور علم کی بھی ترقی ہوگی- پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کو دور کرکے اور توحید کی تعلیم دے کر نہ صرف ایک عظیم الشان مذہبی احسان دنیا پر کیا ہے بلکہ علمی ترقی کا بھی رستہ کھول دیا ہے- مذہب اور سائنس میں صُلح دوسرا احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے مذہب اور سائنس کی لڑائی کو دور کر دیا ہے- آپ سے پہلے لوگ سمجھتے تھے علم پڑھنے سے مذہب جاتا رہتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ خیال قائم کیا کہ مذہب خدا کا کلام ہے اور دنیا خدا کا فعل ہے- آگ جو جلاتی ہے تو اسے بھی خدا نے