انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 222

۲۲۲ کو مدنظر رکھا جاتا جنہیں گورنمنٹ تسلیم کر چکی ہے تو انہیں تین ممبر ملنے چاہئیں تھے لیکن ملے انہیں کل دو ہیں- اور یہ تعداد اس قدر قلیل ہے کہ اس کا خیال نہ گورنمنٹ کو تھا نہ ہندوؤں کو- کوئی بھی تین ممبروں سے کم کی امید نہ رکھتا تھا- پس ایک تو اس فیصلہ سے ہمارے اس دعویٰ کو صدمہ پہنچ گیا کہ ہم اپنی تعداد کے مطابق حق مانگتے ہیں- قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص بغیر احتجاج کرنے کے ایک ادنیٰ مقام پر راضی ہو جاتا ہے تو دوسرے لوگ بھی سمجھ جاتے ہیں کہ اس کو ادنیٰ درجہ دینے میں چنداں ہرج یا خوف کا مقام نہ ہوگا- پس جب مسلمان سات میں سے دو نمائندوں پر راضی ہو گئے ہیں تو یقیناً گورنمنٹ اور کمیشن کے دل میں خیال پیدا ہوگا کہ یہ لوگ گو زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ان کے اندر سچی خواہش اس امر کی نہیں ہے ورنہ کیوں یہ اس مقدار سے تھوڑی تعداد پر راضی ہو جاتے ہیں جس سے زیادہ کا حاصل کرنا ان کے اختیار میں تھا- ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گورنمنٹ نے ہمیں اپنے قانون سے ایسا بے بس بنا رکھا ہے کہ اپنی تعداد کے مطابق حق نہیں لے سکتے کیونکہ گو ہم اپنی تعداد کے مطابق حق نہ لے سکتے ہوں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم تین ممبریاں ضرور لے سکتے تھے مگر ہم نے اس قدر بھی نہیں لیں اور اپنی مرضی سے نہیں لیں- پس ہماری مذکورہ بالا دلیل عقلمندوں کیلئے ہر گز حجت نہ ہوگی اور ہماری نسبت یہی سمجھا جائے گا کہ ہم اپنے جائز اور ضروری مقام کے حصول کے لئے اس قدر بے تاب نہیں ہیں جس قدر کہ ہم ظاہر کرتے ہیں یا یہ کہ ہم اس مقام کے حصول کے قابل ہی نہیں ہیں- دوسرا نقص اس فیصلہ کی وجہ سے یہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہم نے اپنی آواز کو خود ہی کمزور کر لیا ہے- چوہدری چھوٹو رام صاحب کا انتخاب گو زمیندار پارٹی کی طرف سے ہوا ہے لیکن ہر اک شخص جانتا ہے کہ عملاً انہیں مسلمانوں نے منتخب کیا ہے اور وہ مسلمانوں کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں- اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلمانوں کے حقوق کی پوری نیابت کریں گے یا کر سکتے ہیں؟ کیا ان سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ پورے طور پر اس سوال پر زور دیں گے کہ مسلمانوں کے حقوق کو پچھلی دفعہ پامال کیا گیا ہے اور اب اس کا ازالہ کیا جانا ضروری ہے کیا وہ یہ کہیں گے کہ مجلس اور ملازمت اور قضاء میں مسلمانوں کی کمی تعداد کو فوراً پورا کیا جائے- اور ہندوؤں نے جو ان محکموں پر قبضہ کیا ہوا ہے اس سے انہیں آہستگی سے لیکن قطعی طور پر دستبردار کیا جائے- کیا کبھی بھی کسی قوم کے فرد سے خواہ وہ کس قدر بھی تعلق دوستی رکھنے