انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 215

۲۱۵ وہ بھی عنقریب آنے والی ہے۔اس کے آنے میں سب سے بڑا حصہ قادیان کا ہے۔رپورٹ جو گورنمنٹ میں پیش کی گئی، اس میں یہی لکھا تھا کہ قادیان میں کثرت سے لوگ آتے ہیں اس لئے اس ریلوے لائن کا بننا مفید ہو گا۔پس یہ ریل قادیان کے سبب اور قاریان کی وجہ سے بن رہی ہے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے قادیان کی ترقی کا اعلان کیا، اُس وقت ان چیزوں کا خیال کس کو ہو سکتا تھا۔اور ریل کا خیال تو ایساہے کہ پچھلے سال تک بھی کسی کو خیال نہ تھا کہ اتنی جلدی بننا شروع ہو جائے گی۔زیادہ سے زیادہ یہ خیال تھا کہ چھ سات سال تک بن سکے گی مگر خدا تعالی نے آناً فاناً اس کے بننے کے سامان کرئے۔پس یہ خوابیں ہیں جو ہم نے پوری ہوتی دیکھیں اور بعض ایسی خوابیں ہیں جو ابھی پوری نہیں ہو ئیں اور بعض ایسی ہیں جو مستقبل بعید سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے پورا ہونے کے متعلق اندازہ لگانے سے ہم قاصر ہیں۔مگر خدا تعالی نے ہمیں اس قدر خوابیں پوری کر کے دکھا دی ہیں کہ ہم پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو ابھی پوری نہیں ہوئیں ووہ بھی ضرور پوری ہو گی۔مگر اس وقت اس بات کو بھی خواب و خیال ہی سمجھا جائے کہ اس کالج میں ہر زبان کے پروفیسر مقرر ہوں جو مختلف ممالک کی زبانیں سکھائیں۔اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ ہر ملک کے لئے مبلغ نکلیں۔لیکن یہ ایک دن میں ہو جانے والی بات نہیں ہے۔ابھی آج تو ہم اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے ساتھ بھی مبلّغین کی کلاس تھی مگر اس میں شبہ نہیں کہ ہر چیز اپنی زمین میں ہی ترقی کرتی ہے۔جس طرح بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پودے ترقی نہیں کرتے، اسی طرح کوئی نئی تجویز دیر ینہ انتظام کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی۔اس وجہ سے جامعہ کے لئے ضروری تھا کہ اسے علیحدہ کیا جائے۔اس کے متعلق میں نے۱۹۲۴ ء میں صدر انجمن احمد یہ کو لکھا تھا کہ کالج کی کلاسوں کو علیحدہ کیا جائے اور اسے موقع دیا جائے کہ اپنے ماحول کے مطابق ترقی کرے۔آج وہ خیال پورا ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیاد ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہوگی۔اس موقع پر میں ان طلباء کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو اس میں داخل ہوئے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ان کے سامنے عظیم الشان کام اور بہت بڑا مستقبل ہے۔وہ عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹیں ہیں اور پہلی ایٹوں پر ہی بہت کچھ انحصار ہوتا ہے۔ایک شاعر نے