انوارالعلوم (جلد 10) — Page 195
۱۹۵ (۴)چوتھا کام اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کیلئے آپ نے یہ کیا کہ سکھ جو ہندوستان کی پرجوش اور کام کرنے والی قوم ہے- اسے اسلام کے قریب کر دیا- آپ نے تاریخ سے اور سکھوں کی مذہبی کتب سے ثابت کر کے دکھا دیا کہ باوا نانک علیہ الرحمتہ سکھ مذہب کے بانی درحقیقت مسلمان تھے- اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے تھے- اور نمازیں پڑھتے تھے اور حج کو بھی گئے تھے اور مسلمان پیروں سے عموماً اور باوا فرید علیہ الرحمتہ سے خصوصاً بہت عقیدت اور محبت رکھتے تھے- یہ تحقیق ایسی زبردست اور یقینی ہے کہ مذہبی طور پر اس نے سکھوں کے دلوں میں بہت ہیجان پیدا کر دیا ہے اور اگر مسلمان اس تحقیق کی عظمت کو سمجھ کر آپ کا ہاتھ بٹاتے تو لاکھوں سکھ اس وقت تک مسلمان ہو جاتے- مگر افسوس کہ مسلمانوں نے الٹی مخالفت کی اور اس کے عظیم الشان اثرات کے راستہ میں روکیں ڈالیں- مگر پھر بھی تسلی سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک طبقہ کے اندر اس تحقیق کا گہرا اثر نمایاں ہے- اور جلد یا بدیر یہ تحریک عظیم الشان نتائج پیدا کرنے کا موجب ہوگی- (۵)پانچواں کام آپ نے اسلام کی ترقی کے لئے یہ کیا کہ عربی کو امالالسنہ ثابت کیا- اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو عربی زبان سیکھنی چاہئے- مسلمانوں نے ابھی تک اس بات کی عظمت کو سمجھا نہیں- بلکہ ابھی تک وہ اس کے برخلاف عربی کو مٹانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں- مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تجویز میں مسلمانوں کے اتحادکامل کے لئے بنیاد رکھی گئی ہے- امید ہے کہ کچھ عرصہ تک خود بخود وہ اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس کی مذہبی اہمیت کے ساتھ اس کی سیاسی اور تمدنی عظمت کو بھی محسوس کریںگے- (۶)چھٹا کام اسلام کی ترقی کے لئے آپ نے یہ کیا ہے کہ ایک عظیم الشان ذخیرہ اسلام کے تائیدی دلائل کا جمع کر دیا ہے- اور آپ کی کتب کی مدد سے اب ہر مذہب اور ہر ملت کے لوگوں کا اور علوم جدیدہ کے غلط استعمال سے جو مفاسد پیدا ہوتے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر طرح کی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں- (۷)ساتواں کام آپ نے یہ کیا ہے کہ امید جو مسلمان کے دلوں سے بالکل مفقود ہوگئی تھی اسے پھر پیدا کر دیا ہے- آپ کے ظہور سے پہلے مسلمان بالکل نا امید ہو چکے تھے- اور سمجھے بیٹھے تھے کہ اسلام دب گیا آپ نے آکر بہزور اعلان کیا کہ اسلام کو میرے ذریعہ ترقی ہوگی۔