انوارالعلوم (جلد 10) — Page 181
۱۸۱ خط میں لکھا کہ عورتوں کو عربی فارسی کے علاوہ کچھ انگریزی کی بھی تعلیم دینی چاہئے اور مختلف علوم سے بھی کچھ آگاہی ان کے لئے ضروری ہے- (۴)چوتھے عورتوں کے متعلق سلوک اور مراعات الہامی طور پر آپ نے قائم کیں اور بتایا سلوک اور مراعات میں عورتیں مردوں کے مساوی ہیں- حتی کہ ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب اپنی بیوی سے اونچی آواز میں بولے تو آپ کو الہام ہوا جس کا مفہوم یہ تھا کہ-: مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو کہہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں- ۲۹؎ (۵)پانچویں عورتوں کو نکاح کے متعلق اختیارات حاصل نہ تھے آپ نے اس حق کو قائم کیا اور عورت کی رضا مندی نکاح کے لئے ضروری قرار دی- بلکہ عورت اور مرد کو نکاح سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھنے کے ارشاد کو پھر جاری کیا اور بعض مرد و عورت کو آپ نے خود حکم دے کر ایک دوسرے کو دکھلا دیا- (۶)چھٹے طلاق کا رواج اس قدر وسیع تھا کہ جس کی کوئی حد نہ تھی- آپ نے اسے روکا اور جس حد تک ممکن ہو تعلق نکاح کو قائم رکھنے کا ارشاد فرمایا- اس کے مقابلہ میں خلع کا دائرہ اس قدر تنگ کیا گیا تھا کہ عورت گھٹ گھٹ کر مر جاتی، اس کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا- آپ نے اس دروازہ کو کھولا اور عورت کے حقوق جو شریعت نے اسے دیئے ہیں پھر قائم کئے- اور بتایا کہ طلاق کے مقابل میں عورت کو خلع کا حق ہے- اور صرف اس قدر فرق ہے کہ عورت کے لئے شرط ہے کہ وہ قاضی کی معرفت علیحدگی حاصل کرے- ورنہ عورت کی تکلیف اور احساسات کا شریعت نے اس قدر پاس کیا ہے جس قدر مرد کے احساسات کا- (۷)ساتویں عورت کے اہلی اور تمدنی حقوق کو بلند کیا- آپ کی بعثت سے پہلے عورت کے کوئی حقوق ہی نہیں تسلیم کئے جاتے تھے- مگر آپ نے عورتوں کے حقوق پر خاص زور دے کر اسے اس غلامی سے آزاد کیا- جس میں وہ باوجود اسلام کی تعلیم کے مبتلا کر دی گئی تھی- اصلاح اعمال انسانی بارھواں کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسانی اعمال کی اصلاح کے متعلق کیا جس پر نجات کا مدار ہے- تمام دنیا اعمال انسانی کی اصلاح تو ایک اہم امر سمجھتی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ کام کس طرح ہو سکتا ہے- مسلمان بھی اس مسئلہ کے متعلق خاموش تھے- بلکہ دوسروں سے کچھ گری ہوئی حالت میں