انوارالعلوم (جلد 10) — Page 169
۱۶۹ محفوظ رکھنے کا بتایا ہے- پس جب امت محمدیہﷺکے افراد بھی مس شیطان سے پاک ہو سکتے ہیں تو انبیاء اور خصوصاً سید ولد آدم کیوں محفوظ نہ ہوں گے- آپ نے بتایا کہ حدیثوں میں جو یہ آیا ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ مس شیطان سے پاک تھیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ حضرت مسیح پر ولد الزنا ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ مس شیطان سے پاک تھے یعنی ان کی پیدائش شیطانی نہ تھی- پس حدیث میں جو ان کے پاک ہونے کا ذکر آتا ہے اس سے مراد مسیح اور ابن مریم کی طرح کے لوگ ہیں نہ کہ صرف حضرت مسیح اور حضرت مریم- چنانچہ ان دونوں ناموں کو سورۃ تحریم میں بطور مثال بیان بھی کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی یہ اصطلاح ہے کہ وہ مومنوں کے ایک گروہ کا نام مسیح اور دوسرے کا مریم رکھتا ہے- (۳) تیسری غلطی حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کے متعلق لگی ہوئی تھی- مثلاً لوگ کہتے تھے- حضرت مسیح نے مردے زندہ کئے، وہ پرندے پیدا کرتے تھے- حضرت مسیحموعود علیہ السلام نے ان غلطیوں کو بھی دور فرمایا اور بتایا کہ خدا تعالیٰ اپنی صفات کسی کو نہیں دیتا- قرآن کریم میں صاف الفاظ میں بیان ہے کہ مردے زندہ کرنا اور پیدا کرنا صرف اسی کا کام ہے- اور مردے زندہ کرنے کے متعلق تو وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ اس دنیا میں وہ مردے زندہ کرتا ہی نہیں- پس یہ خیال کرنا کہ حضرت مسیح ناصری نے فی الواقع مردے زندہ کئے یا جانور پیدا کئے شرک ہے- اور ہرگز درست نہیں ہاں انہوں نے روحانی طور پر ایسی باتیں کیں یا علم الترب کے ذریعہ سے بعض نشانات دکھائے یا یہ کہ ایسے لوگ ان کی دعا سے اچھے ہوئے جو قریبالمرگ تھے- (۴) چوتھی غلطی لوگوں کو حضرت مسیحؑ کی تعلیم کے متعلق یہ لگی ہوئی تھی کہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کی تعلیم سب سے اعلیٰ اور بہت مکمل ہے حضرت مسیح نے جو یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی تیرے ایک گال پر تھپڑے مارے تو تو دوسرا بھی پھیر دے، یہ کمال حلم کی تعلیم ہے اور اس سے بڑھ کر اخلاقی تعلیم ہو ہی نہیں سکتی- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ تعلیم ایک وقت اور ایک قوم کے لئے تو اچھی ہو سکتی تھی- لیکن ہر وقت اور ہر قوم کیلئے یہ تعلیم ہرگز اچھی نہیں- اس لئے سب سے کامل تعلیم نہیں کہلا سکتی- اس تعلیم کی اصل وجہ یہ تھی کہ یہود میں بہت سختی پیدا ہو گئی تھی اور وہ بڑے ظلم کیا کرتے تھے- اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے